The news is by your side.

Advertisement

امریکا : مظاہروں میں مزید شدت، ٹرمپ اہلخانہ سمیت محفوظ مقام پر منتقل

واشنگٹن : سیاہ فام امریکی شہری کے بہیمانہ قتل کے بعد پرتشدد مظاہرے مزید زور پکڑ گئے، واشنگٹن ڈی سی سمیت12مزید شہروں میں کرفیولگا دیا گیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اہل خانہ سمیت بنکر میں منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں مزید شدت آگئی ہے جسے انتظامیہ قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے، مظاہروں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مزید 12شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

امریکی ریاست ورجینیامیں ایمرجنسی لگا کرنیشنل گارڈز طلب کرلیے گئے، واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہرمظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔

واشنگٹن ڈی سی میں مشتعل مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرلیا، صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سیکریٹ سروس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہلخانہ کو وائٹ ہاؤس کے بنکرمیں منتقل کردیا ہے۔ دوسری جانب مشی گن میں پولیس اہلکار ہتھیار ڈال کر مظاہرین کے ساتھ شامل ہوگئے۔

یاد رہے کہ امریکی ریاست مینیسوٹا میں کچھ روز قبل چار پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں بدترین تشدد کے بعد ایک سیاہ فارم امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں کا دائرہ برطانیہ تک پھیل چکا ہے۔

متعدد شہروں میں کرفیو کے نفاذ کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میں مظاہرین کی جانب سے جلاوٗ گھیراو، لوٹ مار اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ کا جاری ہے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس اہلکاروں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔

مزید پڑھیں : سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں نسل پرستی عروج پر، افسوسناک واقعہ

رپورٹ کے مطابق جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث 44 سالہ سابق پولیس افسر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جسے آج پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں