The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے حسین حقانی کی حوالگی کے بدلے اپنا بندہ مانگ لیا

اسلام آباد: ڈی جی ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ امریکا نے حسین حقانی کی حوالگی سے انکار کرتے ہوئے ان کے بدلے اپنا ایک بندہ مانگ لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت ہوئی، عدالت نے پوچھا کہ سنا ہے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ وصول کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔

ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ میری امریکیوں سے بات ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی ایک بندہ آپ کے پاس ہے، میں نے ان کو حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ بھی دکھائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ امریکا نے حسین حقانی کو ریڈ وارنٹ دینے سے انکار کیا، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کوئی ملزم بیان حلفی دے اور پھر پیش نہ ہو تو کیا حکومت اسے بھیجنے سے انکار کرسکتی ہے؟

ڈی جی ایف آئی کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کی کرپشن کے حوالے سے بھی امریکیوں کو بتایا گیا لیکن ان کی طرف سے تعاون نہیں کیا جارہا ہے۔ انھوں نے الطاف حسین کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم کیس میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، انٹرپول میں پانچ بھارتی افسران ہیں لیکن ایک بھی پاکستانی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کی حسین حقانی کو وطن واپس لانے کیلئے30 دن کی ڈیڈلائن

عدالت نے میمو گیٹ اسکینڈل میں معاونت کے لیے ممتاز ماہر قانون احمر بلال صوفی کو مقرر کردیا جو حسین حقانی کی وطن واپسی کے سلسلے میں عدالت کی معاونت کریں گے، کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ فروری میں سپریم کورٹ نے حسین حقانی کا ریڈ وارنٹ جاری کردیا تھا جب کہ مارچ کے اختتام پر سپریم کورٹ نے حکومت کو حسین حقانی کو ملک واپس لانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔

عدالتی احکامات کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، حسین حقانی

یاد رہے کہ 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی حکام کو پاکستان میں فوجی بغاوت کے خطرے کے پیش نظر ایک خط بھیجا تھا جس میں امریکا سے جمہوری حکومت کی مدد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ 2012 سے یہ کیس زیر التوا رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں