The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں طالبان کے ساتھ بات چیت بھی ہورہی ہے اور لڑائی بھی: جنرل نکلسن

واشنگٹن: افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت بھی ہورہی ہے اور لڑائی بھی، افغان فورسز نے گزشتہ کئی ماہ میں طالبان کے 80 حملے پسپا کیے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا، جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ طالبان کو اشرف غنی امن کی پیشکش کر سکتے ہیں، جارحانہ حکمت عملی سے افغانستان میں پر تشدد واقعات میں کمی آئی ہے۔

امریکی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے لیے نئی حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنےآرہے ہیں، جنوبی ایشیا کے لیے نئی حکمت عملی کا مقصد مفاہمت کی پالیسی ہے، جبکہ افغانستان میں طالبان سے لڑائی اور بات چیت دونوں ہورہی ہے۔


طالبان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی طرف آئیں، جنرل نکلسن


خیال رہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہے، طالبان کو ایک بار پھر امن مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ طالبان امریکا سے کبھی بھی جنگ جیت نہیں سکتے اس لیے بہتر ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر امن کے عمل میں شامل ہوجائیں، امریکا افغان جنگ کے معاملے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ہم افغان سرزمین پر امن قائم کرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں، ٹرمپ کی نئی پالیسی بھی اسی بات کی غمازی کرتی ہے۔


روس طالبان کو ہتھیار فراہم کررہاہے‘جنرل نکلسن


واضح رہے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں نے گذشتہ روز ایک اہم فوجی کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد طالبان عسکریت پسند ہوگئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں