site
stats
عالمی خبریں

امریکی فیصلہ مشرق وسطیٰ میں آگ لگا دے گا، ترک و روسی صدور کی پریس کانفرنس

انقرہ: ترک صدر طیب اردگان اور روس کے صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو خطے کے پائیدار امن کے لیے خطرناک قرار دیا اور اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں نفرت کی آگ بڑھ جانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے.

دونوں صدور انقرہ میں ملاقات کے بعد مشترکہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، دونوں صدور نے ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال پر اتفاق رائے پایا گیا ہے.

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی تنازعات کا شکار ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دیا ہے جس سے قیام امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچے گا جس سے پورے خطے میں آگ بھڑک اُٹھے گی.

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردگان نے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ روسی صدر نے دورانِ ملاقات نہتے فلسطینیوں پربہیمانہ اسرائیلی تشدد اور مظالم کی پر زور مذمت کی ہے اور تنازعے کے پُرامن حل کے ہمارے مطالبے کی حمایت کی ہے.

اس موقع پر روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ اعلان سے صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچی ہے بلکہ دنیا بھر میں موجود دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اس لیے امریکا کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر عوامی مطالبے کی قدر کرنی چاہیئے.

یاد رہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن ایک روزہ دورے پر انقرہ پہنچے ہیں ترک صدر طیب اردگان نے اُن کا استقبال کیا اور خصوصی ملاقات میں دو طرفہ دلچسپی کے معاملات بالخصوص مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top