site
stats
عالمی خبریں

امریکا کا پاکستان سے ایک مرتبہ پھر’’ ڈومور‘‘ کا مطالبہ

واشنگٹن : امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ امریکا آئندہ سال جنوبی ایشیائی ممالک کو 220 ملین  ڈالر دے گا جس کا مقصد خطے سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے.

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کو سراہنے کے بجائے امریکی مطالبے ڈومور کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن ہو سکے.

نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ایک پُرامن افغانستان سے جڑی ہے اس لیے پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہوگا، امریکا پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور امریکا جنوبی ایشیا کے لیے 2018 میں 220 ملین ڈالر کی خطیر رقم بھی کی ہے.

خیال رہے اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 50 ہزار سے زائد فوجی افسران و جوان اور عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور قیام امن کے لیے معصوم پاکستانی بچوں نے اپنا لہو تک پیش کیا.

یاد رہے 6 ستمبر کو یوم دفاع کے موقع پر مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے دنیا پر واضح کردیا تھا کہ پاکستان کو فنڈز نہیں بلکہ اعتماد اور خدمات کو سراہے جانے کی ضرورت ہے جس کے لیے اب پاکستان کو نہیں بلکہ دنیا کو ڈومور کرنا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top