ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

ایلیا کازان: ہالی وڈ کا عظیم ہدایت کار

اشتہار

حیرت انگیز

فلم سازی اور ہدایت کاری کے شعبہ میں ایلیا کازان نے اپنے جنون اور تخلیقی وفور سے کام لے کر بلاشبہ بے مثال شہرت اور پذیرائی سمیٹی، لیکن ہالی وڈ میں مقام و مرتبہ پانے والے ایلیا کازان کا نام اس فلمی صنعت کے ایک مشہور تنازع سے بھی جڑا ہے جس پر ردعمل تقریباً نصف صدی بعد سامنے آیا اور فلمی دنیا میں انھیں خفّت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس باکمال فلم ساز اور ہدایت کار نے 1999ء تک ہالی وڈ کو کئی شان دار اور یادگار فلمیں‌ دیں، مگر اسی برس جب آسکر ایوارڈ کی تقریب کے دوران ان کا نام لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے پکارا گیا تو حاضرین کی صفوں میں‌ تذبذب اور اضطراب دیکھا گیا۔ ادھر کازان کا نام سن کر کچھ فن کار تالیاں بجانے لگے لیکن جب دیکھا کہ سینئر فن کاروں خاموش ہیں اور اپنی نشستوں پر بے چین اور مضطرب نظر آرہے

ہیں تو ان کے ہاتھ بھی گویا تھم گئے۔ اس بڑی تقریب کے دوران ایک عجیب فضا بن گئی اور اسی دوران سینئر فن کاروں کی جانب سے منتظمین پر تنقید شروع ہوگئی۔ وہ کازان کو ‘غدار’ کہہ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کمیٹی نے غلط انتخاب کیا ہے، کازان اس ایوارڈ کے مستحق نہیں‌ ہیں۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ 1950ء کے عشرے میں ایلیا کازان نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کو ہالی وڈ کے اُن فن کاروں کے نام بتائے تھے جو کمیونسٹ نظریات کے حامل تھے اور امریکا مخالف کارروائیوں میں ان کے ملوث ہونے کا امکان تھا یا وہ امریکی سالمیت اور مفادات کے خلاف کسی بھی طرح کردار ادا کرتے رہے تھے۔ دراصل یہ اس زمانے میں امریکا میں‌ کمیونسٹوں کی گرفت کی جارہی تھی اور وہ ریاست کی نظر میں مشکوک تھے۔ اسی فضا میں کازان نے کانگریس کی کمیٹی سے جو بات چیت کی تھی، اس نے فلم انڈسٹری کے چند بڑے ناموں کی شہرت اور ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے بعد کازان کو فن کاروں نے ‘غدار’ کہہ کر ان سے اپنی نفرت کا اظہار کیا لیکن کازان کی خوش قسمتی تھی کہ اس بھرپور مخالفت کے باوجود فلم انڈسٹری میں ان کی کام یابیوں کا سلسلہ نہیں تھما۔ وہ ہالی وڈ کے عظیم ہدایت کار کہلائے اور ایک منفرد فلم ساز کی حیثیت سے ان کا نام آج بھی لیا جاتا ہے۔ پرفارمنگ آرٹ اور شوبزنس کی جگمگاتی ہوئی دنیا میں کازان کو قابلِ تقلید کہا گیا۔

’آن دی واٹر فرنٹ‘ اور ’ایسٹ آف ایڈن‘ کازان کی ہدایت کاری کا شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔ ایلیا کازان 28 ستمبر 2003ء میں چل بسے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق یونان سے تھا جو 1913ء میں چار سالہ بیٹے کازان کے ساتھ ہجرت کرکے امریکا آئے تھے۔ کازان نے 9 ستمبر 1909ء کو استنبول (ترکی) میں آنکھ کھولی تھی۔ کازان ابتدائی عمر میں‌ تنہائی پسند، گم گو اور شرمیلے تھے۔ اس کا ذکر انھوں نے ’’امریکا، امریکا‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت میں کیا ہے۔ اس کتاب میں کازان نے اپنا خاندانی پَس منظر، اپنے خاندان کا ذریعۂ معاش، والدین کا تعارف، امریکا ہجرت کرنے کی وجوہ اور زندگی کے مختلف حالات و واقعات رقم کیے ہیں۔کازان کے مطابق ان کی والدہ کا گھرانا تجارت پیشہ تھا اور ننھیالی رشتے دار مختلف شکلوں میں روئی کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ امریکا پہنچ کر ان کے والد نے قالین کی خرید و فروخت شروع کی اور یہی کاروبار ان کا ذریعۂ معاش رہا۔ والدین کی خواہش تھی کہ کازان خاندانی بزنس سنبھالیں، لیکن انھوں نے اپنے لیے ایک الگ راستے کا انتخاب کیا۔ کازان کی یہ کتاب بیسٹ سیلر ثابت ہوئی۔

امریکا میں سکونت اختیار کرنے کے بعد والدین نے کازان کو نیویارک کے ایک اسکول میں داخل کروا دیا جہاں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ایک یونیورسٹی کے شعبۂ فنون میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے ڈراما اور اداکاری کی تعلیم اور تربیت حاصل کی اور اس کے بعد اسٹیج پر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

اس راستے میں پہلا پڑاؤ نیویارک گروپ تھیٹر تھا۔ یہ 1932ء کی بات ہے۔ وہ اسٹیج پر بحیثیت اداکار کام کرنے لگے۔ آٹھ سال تک اداکاری کو ذریعۂ معاش بنائے رکھا۔ پھر براڈ وے پر اسٹیج ڈراموں کے ہدایت کار کی حیثیت سے کام کیا اور اس میدان سے ہالی وڈ کے لیے اڑان بھری جہاں فلم ڈائریکشن کے میدان میں کازان نے اپنا کمال دکھایا اور نئی جہات متعارف کروائیں۔ وہ ایسے فلم ساز بنے جس نے غیرمعروف فن کاروں کی صلاحیتوں پر بھروسا کیا۔ انھوں نے اپنی فلموں میں نئے چہروں کو آزمایا۔ کازان کا خیال تھاکہ کسی بھی فلم کے کام یاب یا فلاپ ہونے میں نوّے فی صد عمل دخل اس کی کاسٹ کا ہوتا ہے۔ اسٹیج کے علاوہ کازان نے فلموں میں بھی بطور اداکار کام کیا اور پھر ہدایت کاری کے شعبے میں قدم رکھا۔

موشن پکچرز میں نووارد فلم ڈائریکٹر ایلیا کازان ابتدائی دنوں میں دو شارٹ موویز کے لیے کیمرے کے پیچھے کام کرتے نظر آئے۔ 1945ء میں ان کی پہلی فیچر فلم اے ٹری گروز ان بروکلین کے نام سے پردے پر سجی۔ یہ فلم دو آسکرز کے لیے نام زد کی گئی، اور ایک ایوارڈ اپنے نام کرسکی۔ یہ کازان کی بڑی کام یابی تھی۔ 1949 ء میں ان کی ایک فلم پنکی منظرِ عام پر آئی جو متنازع ٹھیری۔ اس کا موضوع امریکا میں نسل پرستی تھا۔ یہ فلم تین آسکر ایوارڈز کے لیے نام زد ہوئی، مگر کوئی ایوارڈ اسے نہیں‌ ملا۔

پرفارمنگ آرٹ کے فروغ اور اس شعبے میں ٹیلنٹ کو متعارف کرانے کی غرض سے کازان نے 1947ء میں ایکٹرز اسٹوڈیو کی بنیاد بھی رکھی اور اداکاری اور فلم سازی کی تربیت دیتے رہے۔ 1951ء میں ان کی فلم A Streetcar Named Desire سامنے آئی۔ یہ فلم بارہ آسکر کے لیے نام زد ہوئی جن میں سے چار اس کا مقدر بنے۔ اس کے بعد بھی ان کی کام یاب فلموں کا سلسلہ جاری رہا اور وہ ایوارڈ بھی اپنے نام کرتے رہے۔

کازان کی زیادہ تر فلمیں سماجی موضوعات اور ایسے نظریات اور سوچ کی عکاس ہیں جن کا کازان کی ذاتی زندگی پر اثر پڑا۔ ان کی ایک فلم کا موضوع امریکی معاشرے میں یہودیوں کے لیے جذبۂ نفرت اور تعصب بھی تھا جس پر خاصی تنقید ہوئی۔ اس فلم کا مرکزی کردار ایک صحافی ہے جو اپنی نیوز اسٹوری کے لیے نیویارک آتا ہے اور یہاں لوگوں کے درمیان خود کو یہودی ظاہر کرتا ہے۔ یہ کردار ہالی وڈ کے معروف اداکار گریگوری پیک نے ادا کیا تھا۔ یہ کردار امریکیوں کے یہودیوں کے ساتھ نفرت آمیز سلوک اور ان سے تعصب کو قلم بند کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ عام میل جول کے دوران اپنی جعلی شناخت عام کرتا ہے اور یوں کہانی آگے بڑھتی ہے۔ کازان کی یہ فلم آٹھ آسکرز کے لیے نام زد ہوئی جن میں سے تین اپنے نام کرسکی۔ انہی میں ایک بہترین ڈائریکٹر کا آسکر بھی تھا جو کازان لے اڑے۔ یہ اس شعبے میں ان کا پہلا آسکر تھا۔

اپنے فلمی کیریر میں کازان نے بیسٹ ڈائریکٹر کے دو آسکر اور لائف ٹائم اکیڈمی ایوارڈ جیتے جب کہ مختلف فلمی اعزازات حاصل کیے۔ انھوں نے چار گولڈن گلوب اور تین ٹونی ایوارڈز بھی حاصل کیے۔

کازان نے چار ناول بھی لکھے جن میں سے دو ان کی ذاتی زندگی پر مبنی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں