پیر, مارچ 9, 2026
اشتہار

امریکی بحری بیڑے ’’ابراہم لنکن‘‘ کی طاقت کتنی، کیا اسے بھی تباہ کیا جا سکتا ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (30 جنوری 2026): امریکا نے اپنا بحری بیڑہ ایران کی جانب بھیج دیا ہے یہ کتنا طاقتور ہے اور کیا اس تباہ کیا جا سکتا ہے رپورٹ دیکھیے۔

ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدگی کی انتہا پر جا پہنچے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت ایران پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ خود اعلان کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

16 ویں امریکی صدر ابراہم لنکن کے نام سے موسوم اس بحری بیڑے کی خصوصیات اور طاقت کتنی ہے اور کیا اس کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں اس حوالے سے تجزیہ پیش کیا۔

ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے کہا کہ مذکورہ امریکی بحری بیڑہ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ ہے، جو ایک لاکھ ٹن وزن کے ساتھ سمندر پر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جو نارمل ایئر کرافٹ کی نسبت بہت زیادہ ہے جب کہ یہ 75 کے قریب بڑے جنگی فائٹر جہاز اپنے ساتھ لے کر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ اس کو کبھی ڈبویا نہیں جا سکتا ہے اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ نارمل فیول یا آؤٹ سائیڈ انرجی پر انحصار نہیں کرتا بلکہ نیوکلیئر ری ایکٹر پر چلتا ہے اور کنفرم 20 سے 25 سال تک آزادانہ سمندر میں رہ سکتا ہے۔

خالد چشتی نے مزید کہا کہ اگر اس کو سمندر سے باہر لایا جاتا ہے تو وہ اس پر موجود انسانی عملے کی وجہ سے، کیونکہ انسان اتنی دیر سمندر میں رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے روٹیشن کرنی پڑتی ہے۔ اس جہاز پر ٹیکنیشنز سمیت 5500 کا عملہ بیک وقت موجود ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بحری بیڑہ پہلی بار استعمال نہیں ہوا۔ گلف، عراق، ایران اور افغانستان کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھی اسے سمندر یا قریبی کوسٹل پر لایا گیا۔

ریٹائرڈ ایئرکموڈور کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی میں جب یہ ایران کے قریب لایا جائے گا تو اپنے بڑے سائز کی وجہ سے یہ ہدف ہونے کے ساتھ ایران کے لیے بھی بڑا چیلنج ہوگا۔ ضروری نہیں کہ اس کو ڈبویا جائے۔ اگر ایران محدود اسٹرائیک کرتا ہے اور ایک چھوٹا موٹا میزائل یا گن بوٹ کے ذریعے تھوڑا نقصان بھی پہنچاتا ہے تو یہ ایران کی بڑی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ چھوٹے ملک کی جانب سے بڑی طاقت کو تھوڑا سا نقصان بھی اس کے لیے کامیابی ہوتی ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سال ایران اسرائیل جنگ میں جہاں ایران کا بھی بہت نقصان ہوا لیکن ایران کے جوابی وار سے اسرائیل کا بھرم ٹوٹا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ویتنام کے بعد گزشتہ پانچ دہائیوں میں امریکا نے جتنے بھی حملے کیے وہ نیٹو کی چھتری تلے کیے اور اب پہلی بار وہ تنہا یہ حملہ کرے گا جب کہ امریکا کی نیٹو کے بغیر تنہا حملے میں کامیابی کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

 

+ posts

ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اہم ترین

ریحان خان
ریحان خان
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں