The news is by your side.

Advertisement

امریکی جنگلات سنگتروں کے چھلکوں سے ہرے بھرے ہوگئے

واشنگٹن : امریکا کے شمال میں واقع گونا کاسٹا کے جنگلات میں سنگتروں کے چھلکوں سے جنگل ہرا بھرا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق 1990 کی دہائی میں ملک کے شمال میں واقع گونا کاسٹا کے جنگلات میں ایک ہزار ٹرکوں نے سنگتروں کے بارہ ہزار ٹن چھلکے اور گودے کا کچرا پھینکا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں کے بعد وہاں کچھ ایسا ہوا جس نے لوگوں کو حیران کر دیا۔

پرنسٹن یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے سنہ 2013 میں اس جگہ کا دورہ کیا اور انھیں علم ہوا کہ وہاں بائیو ماس میں 176 فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔

ٹیم کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر سنگتروں کے چھلکے پھینکے گئے تھے اور وہ جگہ جہاں یہ نہیں پھینکے گئے ان دونوں کا جائزہ لینے کے بعد سنگتروں کے چھلکوں نے کھاد کا کام کیا اور زمین کو زرخیز کر دیا۔

اضافی بائیو ماس جس جگہ ڈالا گیا وہاں کی زمین زیادہ زرخیز ہو گئی، وہاں مختلف اقسام کے درخت نکل آئے اور ان کا سایہ بھی زیادہ تھا سادہ الفاظ میں یہ علاقہ زیادہ سر سبز اور شاداب ہو گیا۔

ٹیم کے ایک ممبر ٹیکو فرٹ نے دعوی کیا کہ ڈیل اورو کے کچرے سے آلودگی پھیل رہی ہے جو قریبی دریا کو بھی متاثر کر رہی ہے اس کے علاوہ اس کچرے سے کیڑے مکوڑے اور جراثیم پیدا ہو رہے ہیں جن سے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ جزان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں