The news is by your side.

Advertisement

استور میں امریکی شہری نے 90 ہزار ڈالر میں مارخور شکار کرلیا

اسکردو: گلگت بلتستان کے ضلع استور میں امریکی شہری نے 90 ہزار ڈالر دے کر مارخور کا شکار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سیکریٹری جنگلات آصف اللہ خان نے کہا ہے کہ اس سیزن کا یہ آخری مارخور شکار کیا گیا، اس سے پہلے گلگلت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تین اور مارخور کے شکار ہوچکے ہیں۔

سیکریٹری جنگلات نے بتایا کہ جوٹیال گلگلت میں ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر، دوسرا بونجھی استور میں ایک لاکھ ڈالر جبکہ تیسرا حراموش گلگلت میں ایک لاکھ 5 ہزار ڈالر میں مارخور شکار کیا گیا۔

آصف اللہ خان نے کہا کہ شکار سے حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد حکومت کو جاتا ہے جبکہ بقیہ 80 فیصد وہاں کی کمیونٹی کو دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان: امریکی شہری نے ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر میں مارخور شکار کر لیا

واضح رہے کہ مارخور شکار کرنے والے امریکی شہری برائن کنسل بارلن نے پرمٹ کی مد میں ایک لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر یعنی (ایک کروڑ 52 لاکھ پاکستانی روپے) ریکارڈ فیس ادا کی تھی جو کہ پرمٹ کی مد میں اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔

یاد رہے کہ 13 جنوری کو گلگت میں امریکی شہری نے قانونی شکار کے تحت 1 لاکھ ڈالر فیس کے عوض مارخور شکار کیا تھا، یہ پہلا ہنٹنگ ٹرافی ایوارڈ تھا، خیال رہے کہ مارخور کے شکار کے لیے سالانہ صرف چار پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔

مارخور جنگلی بکرے کی قسم کا ایک پہاڑی بکرا اور پاکستان کا قومی جانور ہے۔ ہمالیہ، قراقرم، ہندو کش اور کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں پائے جانے والے اس جانور کو اپنی نسل مٹنے کے خطرے کا سامنا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں اس کی پانچ اقسام ہیں جن میں سے تین اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں، جنھیں سلیمان مارخور، کشمیر مارخور اور استور مارخور کہا جاتا ہے، استور مارخور کا مسکن گلگت کے علاقے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں