The news is by your side.

Advertisement

امریکی سینیٹ میں‌ پاکستان پر پابندیاں‌عائد کرنے کی تجویز مسترد

واشنگٹن: امریکی سینیٹ کے اجلاس میں پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی، سینیٹر مارکی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جوہری جنگ کا خطرہ ہے،اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ خطے میں‌ جوہری پھیلائو کا ذمہ دار بھارت ہے اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمولیت کے لیے بھارت کی حمایت نہ کی جائے۔


اے آر وائی نیوز واشنگٹن کے نمائندے جہانزیب علی کے مطابق امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں پاکستان سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت سینیٹر بوب کروکر نے کی جو پاکستان مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ 

توقع کے برعکس تجویز مسترد ہوئی

اجلاس میں پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے تجویز پیش کی گئی جس پر توقع تھی کہ پابندیاں عائد کرنے کی سفارشات مرتب کرلی جائیں گی یا پاکستان مخالف کافی بیانات سامنے آئیں گے لیکن توقع کے برعکس پابندیاں عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی۔

لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ 

نمائندے کے مطابق کچھ سینیٹرز کی جانب سی پیش کردہ اس تجویز میں کہا گیا کہ پاکستانی حکومت حقانی نیٹ ورک، جیش محمد، لشکر طیبہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کررہی کیوں نہ پاکستان پر پابندیاں عائد کردی جائیں۔ جواب میں ری پبلکن صدر کی دوڑ میں شامل رہنے والے اہم سینیٹر مارکی اور سینیٹر باب کروکر نے تجویز مسترد کردی۔

پاکستان خطے کا اہم ملک ہے،پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں، سینیٹرز
دونوں سینیٹرز کا موقف تھا کہ پاکستان اُس خطے کا ایک اہم ملک ہے جس پر پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں،پاکستان نے حالیہ دنوں میں ہی دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کی ہیں جس میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم پاکستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروپس پاکستان سمیت دنیا بھر کو متاثر کررہے ہیں۔

امریکا ایٹمی جنگ روکنے کے لیے کردار ادا کرے، سینیٹر مارکی

امریکی سینیٹر مارکی نے ایک بڑے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، امریکا کو چاہیے کہ وہ پاک بھارت ایٹمی جنگ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا ذمہ دار بھارت ہے

اجلاس میں سینیٹرز نے تسلیم کیا کہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کا ذمہ دار بھارت ہے اس لیے امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی کی شمولیت کی حمایت نہ کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں