The news is by your side.

Advertisement

امریکہ کی باحجاب سپر ماڈل حلیمہ عدن نے فیشن انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا

مجھے آخر کار احساس ہوگیا ہے کہ میں اپنے حجاب کی حالت ہی میں چین و سکون محسوس کررہی ہوں, حلیمہ عدن

نیو یارک : معروف مسلم امریکی سپر ماڈل حلیمہ عدن نے فیشن انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا، ان کا کہنا ہے کہ فیشن انڈسٹری نے ان کو اپنے مذہبی عقائد سے دور رہنے پر مجبور کیا، جس پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔

حلیمہ عدن19 ستمبر 1997 کو پیدا ہوئیں، صومالی امریکی فیشن ماڈل کو مس مینیسوٹا یو ایس اے کے مقابلے میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

معروف امریکی سپر ماڈل حلیمہ عدن نے انسٹاگرام پوسٹس کی ایک سیریز میں فیشن انڈسٹری کو الوداع کہنے کا اعلان کیا ہے۔ حلیمہ عدن نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فیشن انڈسٹری نے انہیں اپنے مذہبی عقائد سے دور رہنے پر مجبور کیا، جس پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔

صومالی نژاد امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے فیشن انڈسٹری چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ رن وے فیشن شو چھوڑ رہی ہے کیونکہ اس شعبے نے ان کو اپنے مذہب سے بھٹکنے پر مجبور کیا۔

میگا فیشن لیبل کی نمائندگی کرتے ہوئے حجاب پہننے والی پہلی ماڈل عدن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مجھے اس انڈسٹری میں رہتے ہوئے ذہنی سکون نہیں مل رہا تھا۔

انڈسٹری میں ایک سیاہ فام مسلم خاتون کی حیثیت سے اپنی کامیابی کے باوجود عدن نے کہا کہ وہ اکثر دباؤ کا شکار رہتی ہیں کیونکہ انہوں نے فوٹو شوٹس کے دوران بے چینی محسوس کیا ہے انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے میری آنکھیں کھل گئیں۔

کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدائش کے سات سال بعد امریکہ منتقل ہونے والی عدن نے کہا کہ مجھے آخر کار احساس ہوگیا ہے کہ میں اپنے حجاب کی حالت ہی میں چین و سکون محسوس کررہی ہوں۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں عدن کو اپنی والدہ کے ساتھ دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے لئے ایک مؤقف رکھتی ہوں لیکن میں ان تمام لوگوں کے لئے بھی ایک مؤقف رکھتی ہوں جنہوں نے فیشن سے اپنی جان کھو دی۔

واضح رہے کہ عدن نے پہلی بار سال 2016 میں شہرت حاصل کی تھی جس کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ تب ہوا جب وہ حجاب پہننے والی پہلی خواتین ماڈلز میں سے ایک بن گئیں۔ تب سے وہ برٹش ووگ کے سرورق پر اور نیو یارک فیشن ویک میں رن ویز پر نمودار ہوتی رہتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں