The news is by your side.

Advertisement

امریکی عدالت نے داعش کی مدد کے الزام میں‌ خاتون کو قید کی سزا سنادی

واشنگٹن : عدالت نے داعش کی شمولیت اختیار کرنے والی خاتون فوجی اہلکار کو قید کی سزا سنا دی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی پراسیکیوٹر نے اسے کم سے کم 30 اور زیادہ سے زیادہ 50 سال تک قید کی سزا کی سفارش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی ایک عدالت نے شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہونے والی ایک خاتون فوجی اہلکارام نوٹیلاکو چار سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے، امریکی وفاقی پراسیکیوٹر کی طرف سے ام نوٹیلا کو اس سے کہیں زیادہ قید کی سزا کی سفارش کی گئی تھی تاہم عدالت نے ملزمہ کو کم سزا دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی ریاست نیو جرسی کی 24 سالہ سنمیہ امیرہ سیزار نے اپنا فرضی نام ام نوٹیلارکھا ہوا ہے۔ اس کے خلاف دہشت گرد تنظیم کےساتھ وابستگی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام عاید کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وفاقی پراسیکیوٹر نے اسے کم سے کم 30 اور زیادہ سے زیادہ 50 سال تک قید کی سزا کی سفارش کی تھی۔

امریکی پراسیکیوٹر جنرل کےترجمان نے بروکلین میں بتایا کہ سیزار 29ماہ سے زیرحراست ہے، اسے دی گئی سزا میں یہ عرصہ بھی شامل ہوگا۔اگرچہ اس کیس کی سماعت گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے مگرحالیہ بنچ کے ہاں یہ تیسری خصوصی سماعت تھی جس میں عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ا نوٹیلاکو نومبر2016ءکو کنیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا، وہ امریکا سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑی گئی تھی۔ فروری 2017کو اس نے غیرملکی تنظیم داعش کی مالی معاونت کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں