The news is by your side.

Advertisement

طوطیٔ ہند امیر خسرو اور حضرت نظام الدّین اولیاء

کہا جاتا ہے کہ حضرت امیر خسرو کو ان کے عہد کے ایک بادشاہ نے ’’ملکُ الشعراء‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا مگر وہ کشورِ سخنوری کے ایسے شہنشاہ ثابت ہوئے جس کی سلطنت آج تک قائم ہے۔

برصغیر میں کوئی سخن ور پیدا ہی نہیں ہوا جسے ان کا ہم سَر کہا جائے۔ امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت ہی نہیں موسیقی کے فن میں بھی انھیں یکتا و یگانہ کہا جاتا ہے۔ فنِ‌ موسیقی میں ان کی کچھ ایجادات اور اختراعات کا بھی تذکرہ محققین نے کیا ہے۔

خسروؔ نے اپنی شاعری اور موسیقی کو خالص ہندوستانی رنگ دیا جس کی تقلید بعد کے فن کاروں نے کی۔ آئیے، امیر خسرو کی زندگی کے مختلف ادوار پر نظر ڈالتے ہیں۔

ابتدائی زندگی
محققین کے مطابق امیر خسرو کی ولادت اتر پردیش کے پٹیالی قصبے میں ہوئی تھی جو گنگا کے کنارے واقع ہے۔ زیادہ تر مؤرخین نے ان کا سنہ پیدائش 1252ء بتایا ہے اور یہ وہ زمانہ تھا جب سلطان ناصرالدّین محمود نے سلطنت کو سنبھال رکھا تھا۔ خسرو کا اصل نام یمین الدّین محمود تھا مگر شہرت انھیں ان کے تخلّص سے ملی۔

خاندانی پس منظر
خسروؔ کے والد امیر سیف الدّین محمود کا خاندان وسطِ ایشیا کے شہر سمر قند کے قریب کش کا رہنے والا تھا مگر مغلوں کی تاراجی سے پریشان ہوکر بلخ میں آبسا تھا۔ بعد میں وہاں‌ سے سکونت ترک کی اور ان کے والد ہندوستان چلے آئے۔ یہاں کسی طرح پٹیالی کی چھوٹی سی جاگیر مل گئی۔ امیر سیف الدّین محمود ایک سپاہی تھے اور معرکوں پر اکثر جایا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ خسرو کی عمر سات سال تھی جب وہ والد کے سائے سے محروم ہوگئے اور پرورش و تربیت نانا نے کی۔ اس گھرانے کا ہندو پس منظر تھا اور وہاں رہتے ہوئے لوک گیت اور بھجن بھی خسرو کے کان میں پڑتے تھے۔ ایک طرف انھیں عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم بھی دی جارہی تھی۔ اس ماحول میں خسرو کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

شاعری کا آغاز
اس دور میں اچھے گھرانوں میں زبان و ادب کی تعلیم بھی ضرور دی جاتی تھی اور ماحول علمی ہوتا تھا جس میں شعر وسخن سے رچا بسا تھا۔ چنانچہ خسرو بھی مکتب میں ہی شعر سنانے لگے۔ خسرو بیس سال کی عمر تک ایک دیوان مرتب کر چکے تھے۔

درباروں سے وابستگیاں
مسلم عہدِ سلطنت میں شعراء کو ملازم رکھنے کا عام رواج تھا جو کہ وسط ایشیا اور ایران سے یہاں پہنچا تھا۔ سلطان غیاث الدین بلبن کا دور تھا جب خسروؔ آزادانہ طور پر تلاشِ معاش کے لیے نکلے۔ انھیں بھی بادشاہ کا ایک شاہ خرچ بھتیجا مل گیا جو علی گڑھ (کول) کا جاگیر دار تھا۔ خسرو اس کی نوازشات سے فیض یاب ہونے لگے۔

امیر خسرو نے دوسری ملازمت سلطان بلبن کے بیٹے بغرا خان کے ہاں کی جو سامانہ (پنجاب) کا گورنر تھا۔ بغرا خاں، سلطان بلبن کے ساتھ بنگال کی بغاوت فرو کرنے گیا۔ خسروؔ بھی ساتھ تھے۔ بغاوت فرو ہوئی اور بغرا خاں کو وہاں کا گورنر بن کر لکھنوتی (موجودہ مرشد آباد) میں رکنا پڑا۔ شہزادے کے اصرار پر خسرو کو بھی کچھ دن رکنا پڑا۔ چھے مہینے بعد بہانہ کرکے دہلی چلے آئے۔

یہ 1280ء کی بات ہے جب وہ اس وقت کے گورنر ملتان کے ملازم ہوگئے جو بے حد قابل اور مردم شناس ہونے کے ساتھ ساتھ رزم و بزم میں یکتا تھا۔ اس نے خوب قدردانی کی۔ ملتان صوفیا، شعراء، موسیقار اور اہلِ علم و فن کا مرکز تھا۔ یہیں خسرو نے اپنا دوسرا دیوان ترتیب دیا۔ یہیں قوالی کی صنف ایجاد کی۔ بعد میں‌ دہلی چلے گئے جہاں سلطان نے بلا بھیجا اور کچھ لکھنے کی فرمائش کی۔ چند مہینے بعد ان کے ہاتھ میں مثنوی ’’قران السعدین‘‘ تھی جس میں‌ ان کا فنِ سخن وری عروج پر تھا۔ اسے سن کر پورا دربار دم بخود رہ گیا۔ سلطان کیقباد نے انھیں ڈھیروں انعام و اکرام سے نوازا اور ’’ملک الشعراء‘‘ کا خطاب بھی دیا۔

نظام الدّین اولیاء کی بارگاہ میں
جلال الدّین خلجی کے عہد میں دو سال تک امیر خسرو دہلی میں رہے اور اسی دوران ان کا خانقاہِ نظام الدین اولیاء سے ربط گہرا ہوگیا۔ مرید بھی بہت پہلے ہوچکے تھے، مگر مرشد کی خدمت میں وقت بتانے اور روحانی فیوض و برکات کے حصول کا موقع اب میسر آیا تھا۔دل کے سکون کا احساس مرشد کی خدمت میں آکر ہونے لگا۔ لگ بھگ چالیس سال کے تھے جب ایک دیوان مرتب ہوا جس میں‌ مرشد کی منقبت کے بعد بادشاہ کا ذکر آتا ہے۔ یہ پہلا دیوان تھا جس میں انھوں نے اپنے مرشد کی مدح خوانی کی ہے۔

علمی و ادبی خدمات
انھوں نے خمسہ نظامی کی طرز پر خمسہ لکھا اور تصوف و اخلاقیات کے موضوع پر اپنی پہلی کوشش ’’مطلعُ الانوار‘‘ پیش کی۔ انھوں نے مثنوی ’’شیریں خسرو‘‘ اور ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ لکھی۔ دورِ علائی کا بارہ سال جائزہ لیتے اور مشاہدہ کرتے ہوئے امیر خسرو نے ’’خزائن الفتوح‘‘ پیش کی جو ان کا پہلا نثری کارنامہ تھا۔ انھوں نے اس کتاب میں اپنے عہد کی تاریخ پیش کی ہے جو، اب سند کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ کتاب ’’تاریخِ علائی‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اسی کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات کو ’’افضل الفواد‘‘ کے نام سے جمع کیا اور صخیم نثری تصنیف ’’رسائلُ الاعجاز‘‘ مکمل کی۔

آخری ایّام
اپنے پیر و مرشد کے وصال کے ٹھیک چھے مہینے بعد خسروؔ بھی 1325ء دارِ بقا کو چلے جنھیں ان کے مرشد کی پائنتی میں جگہ ملی جہاں صدیوں بعد بھی عام دنوں میں‌ اور عرس کے موقع پر لوگ زیارت کے لیے پہنچتے ہیں۔

(ماخوذ از تاریخِ فیروزشاہی، تاریخِ فرشتہ، شعراء العجم، خسرو شناسی)

Comments

یہ بھی پڑھیں