(8 فروری 2026): وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا آئینی حصہ ہے صوبے میں کسی نئے تجربے کی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال مسترد کر دی، کے پی حکومت پنجاب حکومت کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی، یونیورسٹی کی ایک طلبہ نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پی کو آئینہ دکھایا۔
امیر مقام نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی ترقی پر توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستانیت کا ساتھ دیا ہے، عوام جو سہولتیں چاہتے ہیں وہ اٹک کے اس پار مل رہی ہیں، صوبائی حکومت عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ترقی پر توجہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کیخلاف سازش کرنے والے عبرت کا نشان بنیں گے، خواجہ آصف
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت دوبارہ اقتدار کے خواب دیکھنا چھوڑ دے کیونکہ زمینی حقائق مختلف ہیں، کے پی کے عوام نے جھوٹ اور گمراہ کن ایجنڈے کو مسترد کر دیا۔
30 جنوری کو وفاقی وزیر امیر مقام نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جلد نواز شریف کے نظریے پر حکومت قائم ہوگی، کے پی میں 13 سال حکومت کر کے صوبہ ڈبو دیا گیا، پنجاب میں ریکارڈ ترقی ہو رہی ہے بچوں کو لیپ ٹاپ مل رہے ہیں، پختون محب وطن پاکستانی ہیں اور ترقی چاہتے ہیں وہ بھی پنجاب جیسی حکومت مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ کے پی میں ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے نہیں رہے، موجودہ صوبائی حکومت کے پاس فراڈ اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، یہ پہلا وزیر اعلیٰ ہے جو اپنی حکومت میں احتجاج کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا تھا کہ کے پی میں ہمارے لوگ بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی قیدی نمبر 804 کے پیچھے گھومتا پھرتا ہے، وزیر اعلیٰ کام کے بجائے کبھی لاہور اور کبھی اسلام آباد میں گھومتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


