کبھی ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے بھی پڑ جاتا ہے جو اپنے عہدے اور اختیار کے زعم میں یا کسی مفاد کی خاطر ایسی حرکت کرتے ہیں یا کوئی ایسا کام کر بیٹھتے ہیں کہ جس میں بعد میں منہ کی کھانی پڑتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے اور دوسرے سے معذرت کرنے کے بجائے حجت کرنے لگتے ہیں اور اپنے کیے کا کوئی نہ کوئی جواز یا وجہ ضرور پیش کرتے ہیں۔ ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے عذرِ گناہ بدتر از گناہ۔
معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور متعدد کتابوں کے مصنّف امجد اسلام امجد نے اپنی کتاب شہر در شہر میں چند ملکوں کی سیر و سیاحت کے واقعات اور ملاقاتوں کا احوال رقم کیا تھا۔ وہ کینیڈا کے شہر مونٹریال بھی گئے تھے جہاں ایک موقع پر انھیں اور ان کے ساتھی قلم کاروں کو ایسے ہی ایک شخص کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر امجد اسلام امجد کو لاہور ریڈیو اسٹیشن کا ایک واقعہ یاد آگیا جو انھوں نے اپنی اس کتاب میں رقم کیا ہے۔ یہ دل چسپ واقعہ ملاحظہ کیجیے:
پاکستان ٹائمز، لاہور کے حمید شیخ مرحوم روزانہ رات کو ریڈیو سے خبروں پر انگریزی میں تبصرہ کیا کرتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے پہنچتے، ڈیوٹی افسر سے اپنے اسکرپٹ کا مسودہ لیتے اور اسے live broadcast کرا دیتے۔ ایک دن وہ پہنچے تو ڈیوٹی افسر نیا تھا اور ایک چپڑاسی پر اپنی افسری کا رعب جھاڑ رہا تھا۔
اس نے اشارے سے حمید شیخ کو ایک طرف بیٹھنے کے لیے کہا اور پھر چپڑاسی کو ڈانٹنے لگا۔ پروگرام شروع ہونے میں دو منٹ رہتے تھے، حمید شیخ نے کہا: دیکھنا بھائی، یہاں میرا اسکرپٹ ہوگا!
ڈیوٹی افسر نے ایک خشونت بھری نگاہ حمید شیخ پر ڈالی اور سرزنش کے انداز میں بولا: آپ سے کہا ہے وہاں تشریف رکھیں، میں فارغ نہیں بیٹھا ہوا، ابھی آپ سے بات کرتا ہوں۔”
حمید شیخ مرحوم بڑا خوش شکل اور طرح دار آدمی تھا۔ اس کی شخصیت میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کا رکھ رکھاؤ تھا۔ اس نے بڑی مشکلوں سے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہنا شروع کیا ۔ بھئی میرے پاس وقت بہت کم ہے، آپ مہربانی کرکے ….. ڈیوٹی افسر نے بڑی رکھائی سے جواب دیا: "وقت کم ہے تو پھر کسی وقت آ جائیے گا۔”
حمید شیخ یہ سن کر وہاں سے اُٹھا اور سیدھا گھر چلا آیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسٹیشن ڈائریکٹر کو فون کیا اور سارا واقعہ سنایا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر نے اسی وقت دفتر پہنچ کر ڈیوٹی افسر کو لائن حاضر کر دیا۔ ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ حمید شیخ نامی ٹیلنٹ اپنا اسکرپٹ پڑھنے ریڈیو اسٹیشن نہیں پہنچا تھا، چنانچہ اس نے تبصرے کی جگہ سازینہ چلا کر وقت پورا کر لیا ہے اور اس کی تحریری رپورٹ بھی لکھ دی ہے۔ جواب میں اس کے ساتھ جو ہوئی اس کا لب لباب یہ تھا کہ صرف حمید شیخ کی معافی ہی اس کی نوکری بچا سکتی ہے، کیونکہ ریڈیو کو اس کی سروسز کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ دوستوں نے سمجھایا کہ فوراً جاؤ اور حمید شیخ کے پاؤں پڑ جاؤ۔ وہ شریف آدمی ہے ضرور معاف کر دے گا۔ ان کا اندازہ بالکل صحیح تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اسٹیشن ڈائریکٹر کو حمید شیخ کا فون آیا۔ اس نے تقریبا رونے والی آواز میں کہا: ” بھائی میں نے تمہارے اس افسر کو معاف کیا مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں، بس تم اسے کسی طرح فوراً واپس بلا لو۔ اس سے کہو میرا پیچھا چھوڑ دے۔
"کیوں، کیا ہوا ؟” اسٹیشن ڈائریکٹر نے پوچھا۔
"ہونا کیا ہے؟ حمید شیخ نے زچ ہوتے ہوئے کہا، "تمہارا یہ افسر مجھ سے کہہ رہا ہے کہ دراصل سارا دن مختلف قسم کے میوزیشن، ریڈیو میں کام لینے کے شوقین اور میراثی لوگ آتے رہتے ہیں جن کو نہ عقل ہے نہ موت۔ سوائے ڈیوٹی روم میں بیٹھ کر بک بک کرنے کے انہیں اور کوئی کام نہیں۔ وہ سمجھا کہ میں بھی ……”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


