امجد اسلام امجد کے ہم عصر اور دیگر اہلِ قلم جہاں ان کی شاعری اور نثر کے معترف رہے ہیں، وہیں ان کی دل نواز شخصیت اور خوش مزاجی بھی۔ اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقات کی بدولت نام و مقام بنانے والے امجد اسلام امجد کی آج برسی ہے۔
شاعری کی بات کی جائے تو امجد اسلام امجد نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنے جذبات اور احساسات کو خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ نثر کے میدان میں انھوں نے سفرنامے بھی لکھے، کالم بھی ان کے مقبول ہوئے اور مزاح کی چاشنی ان کے مضامین میں نظر آئی مگر ان کی وجہِ شہرت ان کے تحریر کردہ وہ ڈرامے ہیں جو پی ٹی وی پر نشر ہوئے اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ امجد اسلام امجد کا نام 1980 اور 1990 کی دہائی میں ہر گھر میں سنا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں ان کے کھیل وارث، دہلیز، سمندر، دن، فشار اور دوسرے ڈراموں کا ہر طرف چرچا تھا۔ امجد اسلام امجد ان فن کاروں اور اہلِ قلم میں سے ایک تھے جنھیں پاکستان اور بھارت کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی اردو بولنے اور سمجھنے والوں نے بطور شاعر اور ڈرامہ نگار بہت سراہا۔
امجد اسلام امجد شاعر اور ڈرامہ نگار ہی نہیں ایک نقاد اور ادبی مبصر بھی تھے۔ وہ 4 اگست 1944ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی پرورس لاہور میں ہوئی، جہاں ان کی فیملی دستکاری کے کاروبار سے وابستہ تھی۔ اگرچہ اس خاندان میں پڑھنے لکھنے کا زیادہ رواج نہیں تھا اور زیادہ تر مرد کاروبار سے وابستہ تھے، مگر امجد اسلام امجد نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ ایک ذہین طالبِ علم تھے اور پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے اردو کرنے کے بعد 1968ء سے 1975ء تک ایم اے او کالج لاہور کے شعبۂ اردو میں تدریس سے منسلک رہے۔ 1975ء میں پی ٹی وی سے وابستہ ہوگئے اور پھر اردو سائنس بورڈ میں چیئرمین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نوجوانی میں ان کا معروف ادبی پرچوں میں شایع ہونے لگا تھا اور امجد اسلام امجد ادبی حلقوں اور باذوق قارئین میں پہچان بنا رہے تھے۔ بعد میں جب ان کی ادبی حیثیت مستحکم ہوگئی اور وہ شاعری کے ساتھ ڈرامہ نگاری کی طرف آئے تو یہاں بھی مقبولیت ان کا مقدر بنی۔ 1975ء میں ٹی وی ڈرامہ ’خواب جاگتے ہیں‘ پر ان کو گریجویٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد کے ڈراموں نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ بنایا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں امجد اسلام امجد کا نام ہمیشہ کے لیے گویا محفوظ ہوگیا۔ ان کے کئی شعری مجموعے شایع ہوئے اور ان میں شامل نظمیں، غزلیں بہت پسند کی گئیں۔ ان کے علاوہ تنقیدی مضامین کی کتاب ’تاثرات‘ اور عربی نظموں کے چند تراجم بھی شائع ہوئے۔ امجد صاحب کے شعری مجموعوں میں بارش کی آواز، اتنے خواب کہاں رکھوں، ساتواں در، برزخ، ذرا پھر سے کہنا اور کلیات ہم اس کے ہیں شامل ہیں۔ امجد صاحب کی نظمیں اپنی موسیقیت کی وجہ سے خاص طور پر بہت مقبول ہوئیں۔ اکثر جب وہ کسی مشاعرے میں اپنی نظم شروع کرتے تو لوگ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے لگتے تھے اور یہ ان کی مقبولیت کی ایک مثال ہے۔
ڈرامہ نگار کے طور پر امجد صاحب کا سفر اطہر شاہ خاں جیدی کی وساطت سے شروع ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ ریڈیو کے لیے لکھ رہے تھے۔ ان کے اخباری کالم بھی بہت مقبول ہوئے اور انھیں کتابی شکل میں شایع کیا گیا۔ مشاعروں کے علاوہ وہ مختلف ادبی تقریبات میں مقرر کی حیثیت سے بیرون ملک بھی جاتے رہے اور سیروسیاحت کا شوق بھی پورا کیا۔ ان کے چند سفرنامے اور ڈراموں پر مشتمل کتابیں بھی اشاعت کے مراحل سے گزریں۔
امجد اسلام امجد 10 فروری 2023ء کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔ انھیں حکومتِ پاکستان نے سنہ 1987ء میں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی اور 1998ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


