The news is by your side.

Advertisement

امجد صابری کاقتل ایم کیو ایم پرڈالنے کی تیاری ہوگئی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ صرف آپریشن کے لئے کراچی میں اجلاس بلائے جاتے ہیں مگر عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے کبھی کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے  ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شہر میں ہونے والے واقعات اتفاقیہ نہیں  بلکہ کہیں سے ان کا سوئچ دوبارہ آن کر دیا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’امجد صابری کے قتل کو بھی ایم کیو ایم پر ڈالنے کی تیاریاں مکمل کرکے بڑے پیمانے پر کارکنوں کو گرفتار کرنے حکمت عملی بنا لی گئی ہے‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے سوال کیا کہ کیا اسلام آباد والے صرف آپریشن کے لئے آتے ہیں؟ کیاحکمرانوں کی  نظر میں کراچی کے عوام اور مسائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟‘‘۔

ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ’’ کراچی آپریشن ہمارے مطالبہ پر شروع کیا گیا تھا اور ہم نے امن کی بحالی کے لئے ہر سطح پر اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھاہوا ہے باوجود اُس کے میرے کوارڈینیٹر آفتاب احمد سمیت کئی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا اور 125 کارکنوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کردیا گیا ہے جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا‘‘۔

حکومتِ سندھ پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’’صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو فنڈ جاری نہیں کرتی، شہر کے لئے پیپلزپارٹی حکومت سے کسی قسم کی تواقعات نہیں ہیں‘‘۔ کراچی کے عوام کے تحفظات بڑھتے جارہے ہیں ، اب بھی وقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی  دونوں حکومتوں کو خوابوں کی دنیا سے باہر آنا پڑے گا ۔

رہنماء ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی کے عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے اور شہریوں کی داد رسی کرنے سے معاملہ ٹھنڈا ہوسکتا ہے، ایم کیو ایم ایک دفعہ پھر حکومت سے مخاطب ہوکر اہلیانِ کراچی کے مسائل کو حل کروانے کی کوشش کررہی ہے‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال اتنی ناقص ہوگئی ہے کہ فنکار تک اپنی جانوں کے تحفظ کی بھیک مانگ رہے ہیں، انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں و فنکاروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں