The news is by your side.

Advertisement

ڈان لیکس کے ذمہ داروں کو فوج خود گرفتار کر سکتی ہے، تجزیہ کار امجد شعیب

اسلام آباد : دفاعی تجزیہ کار لیفیٹننٹ جنرل امجد شعیب نے کہا ہے کہ آرمی ڈان لیکس کے ذمہ داروں کو خود حراست میں لے کر شفاف اور آزادانہ تحقیقات مکمل کرکے ملزم کوقرار واقعی سزا دلوا سکتی ہے۔

وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے گفتگو کر رہے تھے۔

ریٹائرڈ فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس معاملے کو حل کرنے کے لیے پاک فوج کے پاس دو راستے ہیں تاہم اس سے قبل کہ آرمی خود کچھ کرتی انہوں نے سیاسی قیادت کو موقع دیا جسے بد قسمتی سے گنوا دیا گیا ہے۔


پروگرام کی مکمل ویڈیو خبر کے آخر میں ملاحظہ کریں


انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کا معاملہ پانچ منٹ میں حل ہوسکتا ہے جس کے لیے یا تو حکومت فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کو عام کردے اور رپورٹ کی مرتب کردہ سفارشات کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرے جب کہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آرمی خود ڈان لیکس کے ذمہ داروں کو گرفتار کر کے ان آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی ایجنسیاں ان تمام افراد کو حراست مین لینے کا اختیار رکھتی ہیں جن کے خلاف کارروائی کا زکر ڈان لیکس انکوائری بورڈ کی سفارشات میں بھی شامل ہیں اور انہیں بھی گرفتار کر سکتی ہیں جن کا نام ملک کی انٹیلی جنس اداروں نے پہلے ہی بتا دیئے تھے۔

اس اقدام کی آئینی حیثیت اور حکومت کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب نے جواب دیا کہ ملک کی سالمیت کے لیے اپک فوج کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے اور قومی سلامتی سے متعلق امور میں کارروائی کو حکومت روک نہیں سکتی۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کسی بھی قسم کے غیر آئینی قدم یا حکومت کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ صرف قومی سلامتی سے متعلق متنازعہ خبر کی اشاعت پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روح مطابق عمل کی خواہش مند ہے تاکہ آئندہ کسی کو اس غیر ذمہ داری کی جرات نہ ہو۔

لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے کہا کہ اگر آج بھی وزیراعظم آئین کی دفع 245 کے تحت کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو فوج حکم کی تعمیل بجا لائے گی لیکن جب فوج یہ دیکھے گی کہ حکومت قومی سلامتی کے معاملات میں غیر سنجیدہ ہے تو وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے۔

جنرل(ر) امجد شعیب نے کہا کہ وزیراعظم بننےکامطلب یہ نہیں کہ کھلواڑکی اجازت ہے اس لیے قومی سلامتی پروزیراعظم سمیت سب سے جوابدہی ہوسکتی ہے اور سب سے سوال پوچھا جا سکتا ہے اوریہ سوال پوچھنا فوج کا آئینی حق ہے۔

مکمل پروگرام دیکھیئے :

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں