The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں سزائے موت پرعمل درآمد کی شرح میں 73 فیصد کمی

انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سال 2016 میں پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کی شرح میں 73 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جو 2015 میں 326 پھانسیوں کے ساتھ ٹاپ 5 ممالک میں تھا، یہاں گذشتہ برس صرف 87 افراد کو سزائے موت دی گئی، یعنی گذشتہ برس کے مقابلے میں 239 کم پھانسیاں دی گئیں۔


بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کو سزائے موت سنا دی گئی


رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تاحال اس تعداد میں کمی کے باوجود بھی پاکستان دنیا میں ‘سب سے زیادہ پھانسیاں’ دینے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جن افراد کو پھانسی دی گئی، ان میں کم از کم 4 افراد ایسے بھی تھے، جنھیں فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائی گئی، جن کا قیام جنوری 2015 میں 2 سال کی مدت کے لیے عمل میں آیا تھا، اس عرصے کے دوران فوجی عدالتوں کی جانب سے 133 افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔


سزائے موت کا ملزم، 20 سال بعد بےگناہ قرار


 ایمنسٹی کے مطابق گذشتہ برس پاکستان میں 360 سے زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 2016 کے اختتام تک 6 ہزار سے زائد سزائے موت کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

یاد رہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک میں بھی پھانسیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی، ایران میں یہ تعداد 42 فیصد کم ہوئی جہاں گذشتہ برس 567 پھانسیاں دی گئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق چین میں بھی 2015 کے مقابلے میں 37 فیصد کم پھانسیاں دی گئیں تاہم پھر بھی 2016 میں وہ پھانسی دینے والے ممالک میں سرفہرست رہا، جہاں گذشتہ برس 1 ہزار 32 افراد کی پھانسی پر عملدرآمد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2015 میں پوری دنیا میں 1634 پھانسیاں دی گئیں جو 1989 کے بعد سے بلند ترین شرح تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں