site
stats
پاکستان

ایمنسٹی کا پنجاب میں خواتین کے حقوق کی پامالی پر اظہار تشویش

رپورٹ: خواجہ نصیر

ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان نے پنجاب میں خواتین، بچوں اور اقلیت کے حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے قوانین پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔

ایمنسٹی پاکستان کے وفد نے انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر سب سے زیادہ آبادی کے حامل صوبہ پنجاب حکومت کے حکام سے ملاقات کی۔

حکومتی ارکان نے وفد کو وضاحت دی کہ خواتین، بچوں اور اقلیت کے حقوق کے لیے موجودہ حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں اور ان کے لیےمزید قانونی سازی کی جارہی ہے ۔

باخبر ذرائع سے معلوم ہواہے سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں ایمنسٹی کے تین رکنی وفد نے پنجاب حکومت کے وزرا کو انسانی حقوق پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے وزیرقانون، وزیر ترقی نسواں اور وزیر انسانی حقوق موجود تھے۔

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایمنسٹی کے وفد نے پنجاب میں شریف حکومت کی جانب سے تین سالہ دور حکومت میں خواتین اور اقلیتوں کی بہتری کے حقوق کے دعوے کو مسترد کردیا۔

اطلاعات کے مطابق وفد نے وزرا کو آگاہ کیا کہ سال 2015ء اور رواں سال کے پہلے چار ماہ میں ہزاروں خواتین تشدد کا نشانہ بنیں، اپنے بنیادی حقوق اور علا ج کی سہولتوں سے محروم رہیں، پنجاب حکومت خواتین، بچوں اور اقلیت کے حوالے سے رائج قوانین پر عمل درآمد میں کسی بھی طور دلچسپی نہیں لے رہی۔

وفد نے ملاقات میں اعدادوشمار پیش کیے جس کے مطابق عورتوں اور لڑکیوں کو مستقل طور پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا ہے، سال 2015ء کے صرف پہلے چھ ماہ میں خواتین پر تشدد کے کم از کم 4ہزار308 کیسزدرج ہوئے جس میں 709 کیسز قتل، 596 کیسز زیادتی اور اجتماعی زیادتی، 36 کیسز جنسی ہراسمنٹ، 186 غیرت کے نام پر قتل اور 1020 اغوا کے شامل ہیں جبکہ خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات علیحدہ ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top