The news is by your side.

Advertisement

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوچی سے اعزاز واپس لے لیا

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے سوچی کو 2009 میں سفیر کا اعزاز دیا تھا

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر جانبدارانہ رویہ رکھنے پر آنگ سان سوچی سے سفارتی ایوارڈ واپس لے لیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آنگ سان سوچی سے ایوارڈ لینے کا سبب روہنگیا میں بذریعہ فوج مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر  اُن کی خاموشی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے سربراہ کومی نائیڈو نے میانمار کی حکومتی رہنما کو خط ارسال کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپ انسانیت کی محافظ نہیں رہیں کیونکہ آپ نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر بالکل خاموشی اختیار کی‘۔

اُن کا کہناتھا کہ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے اندوہناک مظالم اور آپ کے متنازع کردار کے بعد سمجھتا ہے کہ آپ ’ایمبسیڈر آف کونسائنس‘ کے اعزاز کی حق دار نہیں رہیں لہذا اسے اب واپسی لیا جارہا ہے‘۔

آنگ سان سوچی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2009 میں ایوارڈ سے اُس وقت نوازا تھا جب وہ نظر بند تھیں۔

مزید پڑھیں:  کینیڈا کا سوچی کی اعزازی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں: آنگ سانگ سوچی سے نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ، آن لائن پیٹیشن پر3 لاکھ سے زائد افراد کے دستخط

یاد رہے کہ گزشتہ برس میانمار فوج نے روہنگیا کے قصبے راخائن میں آپریشن کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کا آغاز کیا تھا جس میں سیکڑوں لوگوں کا قتل عام اور گھروں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ فوجیوں نے عورتوں سے زیادتی بھی کی جس کا انکشاف اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے خود کیا۔

اقوام متحدہ نے راخائن میں ہونے والے مظالم کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا تھا جس کے بعد سب سے پہلے کینیڈا کی پارلیمنٹ نے آسان سوچی کی اعزازی شہریت واپس لے لی تھی۔

یاد رہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر گزشتہ برس اگست میں آپریشن مسلط کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں زندہ بچ جانے والے 7 لاکھ سے زائد متاثرین کو مجبورا ہجرت کر کے بنگلادیش جانا پڑا تھا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں