The news is by your side.

Advertisement

ایمنسٹی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، چیف کمشنر ایف بی آر

لاہور: فیڈرل بورآف ریوینیو کے چیف کمشنر سید ندیم حسین نے کہا ہے کہ بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کے حوالے متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف کمشنر ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 30 جون کے بعد ایمنسٹی نہ لینے والے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی، آئی ایم ایف نے35لاکھ افرادکوٹیکس نیٹ میں لانےکاٹاسک دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسکیم کےتحت بے نامی جائیدادیں بھی قانونی بنائی جاسکتی ہیں، جیولرزکو ایمنسٹی اسکیم حاصل کرنے کے لیے سونا مارکیٹ ریٹ پر ظاہر کرنا ہوگا، اسکیم ختم ہونے کے بعد ڈیفالٹر سے جرمانہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایمنسٹی اسکیم : بیرون ملک میں موجود 1 لاکھ 56 ہزار اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوگئی، علی محمد خان

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے یکم جون کو بے نامی جائیدادیں اور اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کی معیاد 30 جون کو ختم ہوجائے گی۔ چیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایمنسٹی کے تحت ظاہر ہونے والے اثاثوں کو بطور ثبوت کسی اور کیس کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر  سید محمد شبر زیدی نے بینک اکاؤنٹس کی بائیومیٹرک ویری فکیشن پر وضاحت دیتے ہوئے کہاویری فکیشن بینک اپنی ضرورت کےتحت کررہےہیں، ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس دوہزار انیس کے سیکشن بارہ کے تحت ظاہر شدہ اثاثے ظاہر کنندہ کے خلاف کسی بھی دوسرے قانون کے تحت قانونی کاروائی یا جرمانے کے لئے بطور شہادت استعمال نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: ظاہر اثاثے کسی بھی کارروائی میں بطور شہادت استعمال نہیں ہوسکتے، شبر زیدی

ایک روز قبل وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ بیرون ملک ایک لاکھ 56 ہزار اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے،ایمنسٹی اسکیم ختم ہونے کے بعد ایسے تمام اکاؤنٹس کو منظرِ عام پر لایا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں