The news is by your side.

Advertisement

برف میں بھاگ دوڑ کرتے پاکستانی بھالو کی عالمی سطح پر دھوم

اسکردو: گلگت بلتستان کے ضلع استور میں برف میں بھاگتے ہوئے پاکستانی بھالو نے دنیا کو حیران کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع استور میں قائم دیوسائی نیشنل پارک میں ایک اور نایاب ’بھورا بھالو‘ دیکھاگیا، جو برف سے ڈھکے علاقے میں بھاگ رہا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے دیوسائی نیشنل پارک کے فضائی مناظر کی ویڈیو جاری کی، جس میں اس بھالو  کی برف میں بھاگ دوڑ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

نیشنل پارک میں نظر آنے والا ’براؤن بھالو‘ دراصل نایاب نسل کا ہے، جس کو ویڈیو میں برف پر دوڑتا دیکھ کر ماہرِ حیوانیات بھی حیران ہوئے اور انہوں نے اس نسل کی افزائش کے حوالے سے اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

نایاب نسل کے بھالو کو یوں زندہ اور برف پر بھاگ دوڑ کرتا دیکھا کر عالمی میڈیا نے اس واقعے کو خبروں کی زینت بھی بنایا۔

ماہرین کے مطابق بھوری نسل کے بھالو چند ایشیائی، یوریپ اور شمالی امریکا کے برفانی علاقوں میں پائے جاتے ہیں، جو سالمن مچھلی کے ذریعے اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی غفلت اور موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں کے باعث ان بھالوؤں کی نسل معدومی کے خطرات سے دوچار ہے کیونکہ کلائمٹ چینچ کی وجہ سے مچھلیوں کی افزائش ختم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے یہ پھل کھا کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

غذائی ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں کے دوران بھورے ریچھ کم تعداد میں نظر آئے، اسی بنیاد پر ماہرین نے اس نسل کی معدومی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

امریکا کی مونٹانا یونیورسٹی اور امریکی جنگلی و آبی حیات سروس کی جانب سے مشترکہ طور پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق بھورے بھالوؤں میں یہ رجحان دیکھا جارہا ہے کہ وہ ندیوں میں مچھلی کی تلاش چھوڑ کر درختوں کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں سے وہ بیریز توڑ کر کھاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کا پیدا کردہ کلائمٹ چینج اب قدرت کے حیاتیاتی نظام میں بھی مداخلت کر رہا ہے ، تحقیق کے نتائج اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں