The news is by your side.

Advertisement

میں مرچکا ہوں، سزا معاف کی جائے، قیدی کا انوکھا مطالبہ

واشنگٹن : امریکا میں قتل کے جرم عمر قید کی سزا کاٹنے والے ایک قیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سزا ختم ہوچکی ہے کیونکہ وہ مر کر دوبارہ زندہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست آئیووا کی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 66 سالہ قیدی نے انوکھی وجہ بتاتے اپنی سزا ختم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت میں رہائی کےلیے درخواست دائر کی تاہم عدالت نے مجرم کی درخواست مسترد کردی۔

بینجمن شریبر نامی قیدی نے دعویٰ کیا ہے وہ 2015 میں جیل میں گر گیا تھا جس کے باعث میرے دل کی دھڑکن بند ہوگئی اور ڈاکٹرز نے پانچ مرتبہ دل کی دھڑکن بحال کی تھی یعنی تیکنیکی طور پر وہ ایک خاص مدت کےلیے مرچکا تھا لیکن دوبارہ زندہ ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 66 سالہ قیدی نے ڈسٹرک کورٹ میں اپیل کی ہے کہ جیل حکام گزشتہ تین برسوں اسے غیر قانونی قید کیا ہوا ہے تاہم ڈسٹرکٹ جج نے مجرم کی اپیل یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ یہ قانونی شق میں تخلیقی شقم تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ قانون میں تخلیقی خامی تلاش کرنے کی کوشش ہے، عدالت میں مقدمہ دائر کرنا ثابت کرتا ہے کہ وہ زندہ کا درجہ رکھتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بینجمن سربیر نے ہمت نہیں ہاری اور آئیووا کورٹ آف اپیل میں درخواست دائر کردی لیکن وہاں بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب جج نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ خارج کردیا کہ جیل میں زندگی گزارنے کا مقصد زندہ ہونا ہے۔

جج کا کہنا تھا کہ قانون سازوں کا اس شق سے یہ مطلب نہیں تھا کہ علاج کے دوران دوبارہ زندہ کیے جانے کو مجرم اپنے دفاع کےلیے استعمال کرسکیں۔

جج امانڈا پوٹرفیلڈ نے لکھا کہ بینجمن یا تو زندہ ہے اور اس صورت میں انہیں جیل میں ہونا چاہیے یا انہیں مردہ ہونا چاہیے اور ایسی صورت میں یہ اپیل ناقابل توجہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 66 سالہ بینجمن اس مقدمے کو اعلیٰ عدالت میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ شریبر کو 1996 میں پولیس نے قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور عدالت 1997 میں قتل کا الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں