فیصلہ تسلیم کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں مسائل ہوں گے: تجزیہ کار -
The news is by your side.

Advertisement

فیصلہ تسلیم کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں مسائل ہوں گے: تجزیہ کار

کراچی: عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ عبوری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔

دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس میں پاکستان کو مکمل فیصلہ دیے جانے تک پھانسی روکنے کا حکم دیا ہے۔

عالمی عدالت کے فیصلے کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ عبوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جیتا ہوا کیس ہار گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ 15 مئی تک آپ نے عالمی عدالت کو تحریری جواب کیوں نہیں دیا؟ آپ نےعالمی عدالت میں ایڈ ہاک جج کیوں نہیں لگایا؟

انہوں نے کہا کہ بھارت نہیں چاہتا کہ مسئلہ کشمیر عالمی فورم پر آئے۔ کلبھوشن سے متعلق بھارت کا کیس کمزور ہے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ ہمارےوکیل نے 90 میں سے 50 منٹ میں ہی دلائل مکمل کر لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نےعالمی قوانین سے متعلق مشاورت نہیں کی۔ ہم نےایک مضبوط مقدمہ ہاتھ سے جانے دیا۔ معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔ عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر وزارت خارجہ کو بریفنگ دینی چاہیئے تھی۔ اگر وزارت خارجہ اقدامات کرتی تو ہمارا بھی ایڈ ہاک جج عالمی عدالت میں موجود ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کیس سے متعلق تمام پروٹوکول بروئے کار لانے چاہیئں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی عدالت نے ہمارا مؤقف تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کلبھوشن کی پھانسی روکنے میں کسی حد تک کامیاب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے کو سامنے رکھ کر حکمت عملی بنانی ہوگی۔ فیصلہ تسلیم نہ کرنے کے مضمرات ہیں۔ فیصلہ تسلیم کریں تو بھی مسائل ہیں۔ مغرب کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے۔

عسکری تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ کلبھوشن کو پھانسی کا حتمی فیصلہ دیا جا چکا ہے تاہم بھارت اپیل کر سکتا ہے۔ عالمی عدالت میں پاکستان نے مضبوط مؤقف اختیار نہیں کیا۔ بھارت کو کمزور مؤقف کی وجہ سے فائدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی اندرونی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے۔ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھارت کیس عالمی عدالت لے گیا۔ عالمی عدالت نے ابھی صرف دائرہ اختیار کا معاملہ سنا۔ بھارت کی کوشش ہے کہ کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے۔

طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت میں کیس ہم ہارے نہیں ہیں تاہم ثبوت دینے پڑیں گے۔

بریگیڈیئر حارث نواز کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کے ہاتھ ہمارے فوجی جوانوں اور شہریوں کے خون سے رنگے ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزارت خارجہ جواب دے۔ کشمیر اور سیاچن میں بھارت نے پالیسی تبدیل نہیں کی۔ بھارت اور عالمی سطح پر بتانا ہوگا، ہم اپنا فیصلہ خود کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھی عالمی عدالت کا فیصلہ نہیں مانا تھا۔ جاسوسی، دہشت گردی پر پاکستان اور بھارت میں کوئی معاہدہ نہیں۔ پاکستان کو اس کیس کو آگے لے کر جانا چاہیئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ہم نے تیاری کیوں نہیں کی؟ عالمی عدالت سے وقت کیوں نہیں لیا؟

کموڈر عبید اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی عدالت میں کیس کی پیروی جاری رکھنی چاہیئے۔ عالمی عدالت کے فیصلے سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ کلبھوشن کے خلاف بہت ثبوت ہیں۔ بھارت کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ بھارتی درخواست کے بعد اب پاکستان کے پاس نادر موقع ہے کہ بھارتی دہشت گردی کا معاملہ عالمی فورم پر اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے فیصلے میں 75 فیصد بات دائرہ اختیار اور قونصلر رسائی پر تھی۔ جاسوس کو قونصلر رسائی نہیں دی جاسکتی۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے فیصلے کا ذمہ دار بھارتی صنعت کار سجن جندال کو ٹہراتے ہوئے کہا کہ جندال نے خوبصورتی سے کام ادا کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے سجن جندال کا کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ستو پی کر سوئی ہوئی ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب ٹرمپ سے ملاقات میں تھپکی ملے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں