The news is by your side.

Advertisement

مصر میں قدیم قبرستان سے دریافت ہونے والے تابوت نمائش کے لیے رکھ دیے گئے

قاہرہ: مصر میں قدیم قبرستان سے دریافت ہونے والے ڈھائی ہزار سال پرانے تابوتوں کی نمائش کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مصری دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں 100 قدیم تابوت اور 40 سونے سے ملمع کیے مجسمے دریافت ہوئے ہیں۔

ہفتے کو مصری حکام نے بتایا کہ مصر کے شہر سقارہ میں دریافت شدہ تابوتوں میں کچھ رنگا رنگ اور مہر بند سارکوفِگیڈی (پتھریلا تابوت) شامل ہیں، جنھیں تقریباً 2500 سال سے زیادہ عرصہ قبل دفن کیا گیا تھا، اور ان میں کپڑوں میں لپٹی ممیاں موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممیاں قدیم مصری بادشاہوں، پطلیموسی سلسلہ سلاطین سے تعلق رکھتی ہیں، جنھوں نے مصر پر اندازاً 320 سے 30 قبل مسیح تک اور 664 اور 332 قبل مسیح کے درمیان حکومت کی تھی، جنھیں اب سقارہ میں قدیم فرعون جوزر کے مقبرے کے قریب نمائش کے لیے رکھا گیا ہے.

ممی کی اندرونی ساخت دیکھنے کے لیے ایکسرے کیا جا رہا ہے

مصری وزیر سیاحت و نوادرات خالد العنانی نے میڈیا کو بتایا کہ ان نوادرات کو قاہرہ کے نئے گرانڈ میوزیم سمیت تین میوزیمز میں منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ سنسنی خیز خبر بھی دی کہ رواں برس کے آخر میں وہ ایک اور بڑی دریافت کی خبر بھی دینے والے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ علاقے سے ستمبر کے بعد سے 140 پتھریلے تابوت دریافت ہو چکے ہیں، جن میں ممیاں بھی موجود تھیں۔

سقارہ سائٹ مصر کے قدیم دارالحکومت ممفس میں واقع بڑے قبرستان کا ایک حصہ ہے جس میں مشہور گیزا اہرام اور دیگر چھوٹے اہرام موجود ہیں۔ ممفس کے کھنڈرات کو 1970 کی دہائی میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت دی گئی تھی۔

حالیہ دریافت میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک تابوت کھولا تو اس میں ایک اچھی طرح سے محفوظ ممی موجود تھی اور جس کو کپڑوں میں لپیٹا گیا تھا، ماہرین نے اس قدیم ممی کی ساخت کو دیکھنے کے لیے ایکس رے مشین کا بھی استعمال کیا، جس سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ انسانی بدن کو کس طرح محفوظ بنایا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں