تاریخِ عالم اور بالخصوص قدیم دور میں مصریوں کا تصورِ خدا، مظاہرِ فطرت اور سورج، چاند کی حرکت، موسموں کے تغیر سے جنم لیتی آفات سے متعلق کیا خیال تھا اور وہ خدا کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ قدیم مصری اور سلطنت کے حاکم و امرا نے کس طرح عام خدا کے قہر، سزا اور جزا کے تصور کی تشریح کی اور عام آدمی کا استحصال کرنے کے لیے کیا کیا طریقے برتے، یہ سب لائقِ مطالعہ ہے۔ اس دور سے متعلق کئی قصّے، روایات اور دریافت شدہ آثار سے ملنے والی اشیاء سے قدیم مصر کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوسکا، اور قیاس یا اندازہ لگایا گیا ہے، اسے کئی مصنّفین نے اپنی کتابوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک ایسا ہی اقتباس ہے جو میاں محمد جہانگیر ایڈووکیٹ کی کتاب سے لیا گیا ہے۔
قدیم مصر میں جو عبادت گاہیں دریافت ہوئی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان خانقاہوں کو دیوتاؤں کے گھر سمجھا جاتا تھا، جن میں بُت رکھے جاتے تھے جن کے سَر جانوروں کے ہوتے، سورج کے دیوتا را کو دیوتاؤں کا بادشاہ کہا جاتا۔
مصری نہیں جانتے تھے کہ دن کی جگہ رات کیوں لے لیتی ہے۔ وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ را آسمان میں ہر روز ایک سونے کی کشتی میں بیٹھ کر نمودار ہوتا ہے اور شام کو صحرا میں اتر جاتا ہے۔ سورج کے دیوتا کا سر عقاب کا تھا۔ اس دور میں ہر ایک قدرتی مظہر کا ایک دیوتا ہوگا۔ مصری جنگ کے خونخوار دیوتا، جس کا سر شیر کا تھا، سے بہت خوف زدہ تھے۔ اس کے متعلق عقیدہ تھا کہ یہ لوگوں میں چیچک پھیلاتا ہے اور کئی ایک بیماریاں اس کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ را کی کشتی مصریوں کے عقیدے کے مطابق، رات کے وقت ظلمات کے سمندر میں سے گزرتی ہے، ظلمات کے سمندر میں ایک ہیب اژدھا آپومنس رہتا ہے جو را کا جانی دشمن ہے، لہٰذا آمون را کے مندر میں ہر روز سورج ڈوبتے ہی اژدھے کو پسپا کرنے کی خاطر منتر پڑھے جاتے اور رسمیں ادا کی جاتی تھیں۔
مصری نیل کے منبع کو نہیں جانتے تھے، مصریوں کا خیال تھا کہ دیوتا گھڑے سے نیل میں پانی انڈیلتا ہے اور جب پانی زیادہ انڈیلتا ہے تو سیلاب آ جاتا ہے۔ قدیم مصری عوام نیل سے گزارش کیا کرتے کہ وہ ان کے کھیتوں تک آئے اور جب پانی ان تک پہنچتا تو لوگ دریا کا شکریہ ادا کرتے کہ ان کی سن لی گئی ہے اور نیل نے ان کی زندگیوں کو بچالیا ہے۔ موسم گرما میں گرم تیز ہوا میں چلتیں اور وہ ہر شے کو اڑا لے جاتیں، یوں لگتا کہ فطرت ہر شے کو تباہ کر دے گی، تب سمندروں کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور نیل میں سیلاب آتا۔ یوں لگتا کہ ہر شے دوبارہ بحال ہو رہی ہے جیسے ہر شے دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔ یہ قدرتی مظہر اس کہانی کی بنیاد بنا کہ ایک دیوتا ہے جو پہلے مارتا ہے، پھر زندہ کر دیتا ہے۔
صحراؤں کا شیطان دیوتا سیٹ، اس کا چہرہ سرخ تھا۔ وہ اپنے نوکروں کے ساتھ آیا اور اس نے سائرس دیوتا کو ہلاک کر دیا۔ سائرس فصلوں کو اگنے میں مدد دیتا تھا۔ اس کے مرنے کا مطلب فصلوں کی تباہی تھا۔ مصریوں کا خیال تھا کہ سائرس دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ دوبارہ زندہ ہونے والا سائرس اس سلطنت کا بادشاہ اور منصف بن گیا جہاں مردوں کی روحیں اور دفن شدہ لوگ رہتے تھے۔ ایسی تصوراتی زندگی کو قبر کے بعد کی زندگی کہتے ہیں۔ سائرس کی سلطنت میں پانی کی کثیر مقدار تھی اور وہاں گندم کی فصل خوب ہوتی تھی تاہم ہر ایک مردہ کی روح اس سلطنت میں نہیں جاسکتی تھی اور سائرس روح کے مقدمہ کی سماعت کرتا۔ اگر اس نے زندگی میں خدا کے حکم کی تعمیل نہ کی ہوتی تو سائرس اسے سخت سزا دیتا اور ایک خونی بلا اس روح کو کھا جاتی۔
مصریوں کا عقیدہ تھا کہ اگر جسم کو محفوظ بنا لیا جائے تو روح اس میں واپس آسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کی اوجڑی باہر نکال لی جاتی، جسم کو نمک والے پانی میں رکھ دیا جاتا، سفید کپڑے کو گندے بروزے میں بھگو کر لاش کے ارد گرد لپیٹ دیا جاتا اور یہ جسم خشک کر دیا جاتا، ایسی لاشوں کو ممی کہا جاتا۔ ممی بنانا بہت مہنگا ہوا کرتا تھا۔ اس لیے صرف امراء ہی ایسا کر سکتے تھے۔
دیوتاؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مصری اس کے نام پر قربانیاں پیش کرتے۔ اگرچہ کسان بہت غریب اور بھوکے تھے، اس کے باوجود وہ مندروں میں اناج، سبزیاں رکھتے، غلام دار سونا دیتے، غلام اور مویشی بھی بطور نذرانہ عبادت گاہوں میں بھیجے جاتے۔ تھیبنز کے سب سے بڑے مندر میں 80 ہزار غلام تھے۔ مندروں کے پاس بے تحاشا مال و دولت تھا اور اس کے علاوہ ان کے پاس فرعونوں کی عطا کرده وسیع و عریض زمینیں بھی تھیں۔ وہ پجاری جو ان مندروں میں رہا کرتے انہیں دیوتا کے نوکر کہا جاتا۔ جو دیوتا کو کھانا کھلاتے تھے، وہ بتوں کے آگے کھانا رکھ دیا کرتے۔ مذہبی پیشواؤں کے متعلق مصریوں کا خیال تھا کہ وہ بذاتِ خود خدا سے ملتے ہیں، لوگوں کی اپیلیں اس تک پہنچاتے ہیں اور پھر مذہبی پیشوا خدا کی مرضی کو اپنے الفاظ میں لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کے الفاظ کو خدا کے الفاظ سمجھا جاتا۔ بے تحاشا دولت اور غلاموں کی کثیر تعداد کے ساتھ مذہبی پیشوا امیر ترین شخص بن گیا جس کے پاس زمین اور دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ مذہبی پیشواؤں نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی مکمل تابع داری کرے اور ایسا ہی وہ دوسرے غلام داروں سے کرنے کے لیے کہنے لگے۔ انہوں نے کہا، "دیوتا تابع فرمانوں سے پیار کرتا ہے اور سرکشوں سے نفرت کرتا ہے۔”
مصریوں کا خیال تھا کہ فرعون کی طرح لامحدود طاقت صرف خدا کے پاس ہی ہو سکتی ہے، انہوں نے فرعون کو ایک بڑا دیوتا کہا اور اسے سورج قرار دیا۔ مندروں میں جو پہلے بت کھڑے تھے ان میں ایک بڑا بت فرعون کا بنا کر کھڑا کر دیا گیا۔ نہ صرف عام آدمی بلکہ امراء بھی ان جگہوں کو چومنے لگے کہ یہاں اس کے قدم تھے۔ مصریوں کے مذہبی عقائد نے فرعون کی قوّت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غلام داروں کی قوت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ استحصال زدہ لوگوں کو دیوتا کے غیظ و غضب سے خوف زدہ رکھا گیا اور انہیں باور کرا دیا گیا کہ اگلی زندگی میں انہیں سزا مل سکتی ہے۔ اس عقیدے سے استحصال زدہ طبقات کی استحصال کرنے والوں کے خلاف جدوجہد پسِ پردہ چلی گئی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


