ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

ارشمیدس: جو علم کی خاطر زندہ رہا!

اشتہار

حیرت انگیز

آج ہم ایک ایسے شخص کی زندگی کے حالات سناتے ہیں، جو علم کی خاطر زندہ رہا اور اسی کی خاطر مرا۔ وہ سچ مچ سائنس کا دیوانہ تھا۔ اس نے سائنس کے ایسے اصول بنائے کہ ہم آج تک ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ہم سب کے لیے اس کی زندگی ایک سبق ہے، کیونکہ وہ ایسے زمانے میں پیدا ہوا تھا، جب پڑھنے لکھنے کے لیے آج جیسی آسانیاں موجود نہیں تھیں۔ یہ حضرت مسیح سے تقریبا دو سو سال پہلے کی کہانی ہے۔ بحیرۂ روم میں ایک جزیرہ ہے اور سِسلی اس کا نام ہے۔ ہماری یہ کہانی اسی جزیرے کے ایک شہر سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شام وہاں اچھی خاصی چہل پہل تھی۔ بہت سے لوگ ادھر اُدھر گھوم رہے تھے۔ کچھ ہوٹلوں میں بیٹھے کھا پی رہے تھے۔ ملّاح دن بھر کا کام ختم کر کے بندر گاہوں سے واپس آرہے تھے کہ ایک عجیب واقعہ ہوا۔ سب لوگ خاموش ہو گئے، بلکہ حیرت میں پڑگئے۔ لوگوں نے تعجب میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھنا شروع کیا، کیونکہ ایک جانا پہچانا سمجھ دار آدمی اپنی دھن میں مگن ساری دنیا سے بے خبر چلا آرہا تھا۔ اس کی بے خودی کا عالم یہ تھا کہ وہ کپڑے تک پہننا بھول گیا تھا۔ صرف ایک لفظ اس کے منہ سے نکل رہا تھا، جسے سب سن رہے تھے اور کچھ لوگوں نے اسے دیوانہ سمجھا، لیکن دوسروں نے ان کی مخالفت کی۔ یہ دیوانہ نہیں تھا۔ یہ تو اُس زمانے کا نہایت مشہور اور عقل مند انسان تھا۔ وہ مانا ہوا ریاضی داں اور نہایت قابل انجینیئر تھا۔ کپڑے اتار کر بازار میں کیوں نکل آیا۔ یہ راز اگلے دن کھلا۔

سائنس کا یہ شیدائی ارشمیدیں تھا، جس کا بنایا ہوا اصول تم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہو گا۔ سائنس کی تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی محنت سے علم و سائنس کی ایسی شمع روشن کی جس نے اس گئے گزرے دور میں بھی جہالت کے دھندلکوں کو دور کیا۔ حساب، اقلیدس اور سائنس کے ایسے اصول وضع کیے جن پر بعد کے سائنس دانوں نے علم و ہنر کے عظیم قصر تعمیر کیے، جدید سائنس ان قدیم سائنس دانوں کی خدمات فراموش نہیں کر سکتی۔

ارشمیدس جزیرۂ سِسلی کے شہر سیرا کیوز میں حضرت مسیح سے 287 سال پہلے پیدا ہوا۔ اسے وہاں کے بادشاہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ شاید تم نے یہ قصہ سنا ہو کہ بادشاہ نے اپنے لیے سنار سے ایک تاج بنوایا، لیکن جب تاج بن کر آیا تو بادشاہ کو اس کے خالص ہونے پر شک ہوا۔ بادشاہ سنار کو سزا دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں تھا، جس سے وہ یہ ثابت کر سکے کہ تاج کے سونے میں کسی سستی دھات کی ملاوٹ کر دی گئی ہے۔ اس نے یہ کام ارشمیدس کے سپرد کیا جو اس زمانے میں ریاضی کا استاد مانا جاتا تھا۔

اب تو یہ معمولی سی بات ہے۔ سونے کو کسوٹی پر گھس کر کھرا کھوٹا معلوم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت یہ کام بڑا مشکل تھا۔ ارشمیدس بھی سوچ میں پڑ گیا۔ وہ اس معمولی کام کو سائنس کی روشنی میں انجام دینا چاہتا تھا۔ اسے نہاتے وقت خیال آیا کہ ٹب میں ہمیں اپنا جسم ہلکا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ وہ شہر کے غسل خانوں میں جاتا اور کافی دیر تک ٹب میں پڑا ہوا یہ تجربہ کرتا رہتا۔ ایک دن نہاتے نہاتے ارشمیدیں کو نہیں معلوم کیا ہوا کہ وہ فوراََ ٹب سے باہر کود پڑا اور ’’یوریکا، یوریکا‘‘ کہتا ہوا غسل خانے سے نکل گیا۔ جس کا مطلب ہوتا ہے: ’’میں نے معلوم کر لیا، مجھے معلوم ہو گیا۔‘‘ وہ خوشی میں ایسا دیوانہ ہوا کہ کپڑے تک پہننا بھول گیا اور شہر کی ایک بارونق سڑک پر نکل آیا۔ یہی وہ یہی وہ مشہور واقعہ ہے جس کا ذکر ہم نے اس کہانی کے شروع میں کیا ہے اور جس سے علم کے اس شیدائی کے شوق اور محنت کا پتا چلتا ہے۔ اگر انسان محنت کرے تو کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔

گھر پہنچتے ہی ارشمیدس نے اپنا معلوم کیا ہوا اصول پھر تجربوں کی مدد سے جانچا۔ تجربے کے بعد اس نے کہا کہ کوئی جسم پورے طور پر یا جزوی طور پر پانی میں ڈبویا جاتا ہے تو اس کے وزن میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ کمی اس مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے جو اس جسم کے ڈوبنے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اسی تجربے اور اصول کی وجہ سے ارشمیدس نے بادشاہ کو بتایا کہ اس کے تاج میں کتنا خالص سونا موجود ہے اور کتنا کھوٹ ہے۔ اب بھی ارشمیدس کا یہ اصول اسی طرح مشہور چلا آتا ہے۔

(قدیم دور کے علوم اور سائنس سے وابستہ شخصیات کے تعارف پر مشتمل کتاب سے انتخاب)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں