انسان سے قبل زمین پرمردے دفنانے والی مخلوق آباد تھی -
The news is by your side.

Advertisement

انسان سے قبل زمین پرمردے دفنانے والی مخلوق آباد تھی

جنوبی افریقہ: انسانیت کے گہوارے جنوبی افریقہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ انسان سے مطابقت رکھنے والی ایک قدم مخلوق بھی اپنے مردوں کو دفنانے کا فن جانتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے کچھ فاصلے پرواقع قدیم انسانی آبادیوں کے آثارقدیمہ کے مرکز’اسٹرک فونٹین‘اور’سوارٹ کرانز‘ کی ایک غار سے ملنے والے ڈھانچوں نے انسانی ارتقاء کی تاریخ پر نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ لی برجر کا کہنا تھا کہ یہ دریافت بالکل ہماری ناک کے نیچے افریقہ کی اس وادی میں ہوئی ہے جہاں قدیم انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ دریافتیں ہوئی ہیں۔

اس نئی نوع کو سائنسدانوں نے ’ہومونالیدی‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ نام اسے ’رائزنگ اسٹار‘ نامی اس غارکا نام ہے جہاں سے یہ دریافت ہوئی ہے۔ افریقہ کی سیسوتھو زبان میں نالیدی ستارے کو کہا جاتا ہے۔

ماہرین بشریات کے مطابق یہ نوع اپنے مردے باقاعدگی سے دن کرتی تھی اور اس دریافت سے قبل سمجھا جاتا تھا کہ مردوں کو ان کی آخری منزل تک پہنچانے کا یہ طریقہ صرف انسان نے اپنایا ہے۔

ہومو نیلادی نامی اس مخلوق کی دریافت ستمبر 2013 میں ہوئی تھی اور تب سے اب تک ان پر تحقیق جاری تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوع کے دماغ کا حجم ذہانت میں انسان سے قریب ترین مخلوق چمپینزی کے دماغ سے بڑا ہے تاہم یہ نوع تاریخ کے کس دور سے تعلق رکھتا ہے یہ اندازہ لگانا دشوارہے۔

برجر کا کہنا ہے فی الحال اس نوع کے زمین پر رہنے کے دور کا اندازہ لگانا دشوارہے لیکن انکی جسمانی ساخت اور اعضا کی ہیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زمین پر لگ بھگ 25 لاکھ سال قبل چلتی پھرتی ہوگی اور اپنے روزمرہ کے امور انجام دیتی ہوگی۔

واضح رہے کہ انسان کے اس قریبی رشتے دار کی دریافت جس علاقے سے ہوئی ہے وہ اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ورثہ قراردیا جاچکا ہے اورجنوبی افریقہ کی حکومت نے اسے انسانیت کے گہوارے کانام دیا گیا ہے جس کا سبب وہاں سے کثیر تعداد میں برآمد ہونے والے فاسلز ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں