The news is by your side.

Advertisement

تیس ہزارسال قدیم شیرکے بچے

ماسکو: شمالی روس کے منجمد علاقوں کے ایک غار میں ہزاروں سال قد یم غاروں میں رہنے والے یورپی شیر کے دو بچے منجمد حالت میں پائے گئے ہیں۔ ماہرین اسے شیروں پر تحقیق کے لیے اب تک کی سب بڑی دریافت قرار دے رہے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق روسی شہر سالٹ لیک سٹی میں دریائے یوآن دینا کے قریب سے برآمد ہونے والے سفید پنجوں اور فر کی کھال والے یہ دونوں بچے لگ بھگ تیس ہزار سال قدیم ہیں اور ان میں سے ایک تو بالکل نوزائیدہ حالت میں ہے۔

uyan-post-1

برف میں منجمد ان بچوں کے نام یوآن اور دینا رکھے گئے ہیں جس کی وجہ تسمیہ ان کی دریائے یوآن دینا کے قریب سے برآمدگی بتایا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موت کے وقت ان کی عمر ایک ہفتہ سے زیادہ نہیں تھی اور موت کی وجہ غالباً ان کی کچھار پر بھاری تعداد میں برف کا آگرنا تھا۔

ابتدائی طور پر ماہرین نے انہیں دس ہزارسال قدیم قرار دیا تھا تاہم بعد میں تحقیق سے ان کی عمر 30 ہزار سال کے لگ بھگ معلوم ہوئی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک حاصل کردہ معلومات کے مطابق آخری یورپی شیر روئے زمین پر 14 ہزار سال قبل موجود تھا اور آج ہم ان کےطور طریقوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں لیکن یوآن اور دینا کی دریافت تحقیق کے نئے دروازے کھول رہی ہے اور ہمیں جلد ہی معلوم ہوگا کہ قدیم یورپی شیر زمین پر آج موجود اپنے رشتے داروں سے کتنے مختلف یا مماثلت رکھتے ہیں۔

uyan-post-2

یہ دونوں بچے آج کے نوزائیدہ شیر کے بچوں سے کم از کم د و کلو گرام زیادہ وزنی ہیں اور ان کی جسامت ایک بالغ گھریلو بلی جتنی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیر کے بچوں میں ابتدائی دنوں میں اعضائے رئیسہ واضح نہیں ہوتے لہذا یہ کہنا ممکن ہے کہ یوآن اور دینا نر ہیں یا مادہ۔

حیرت انگیز طور پر ان کی دمیں ان کی جسامت سے 23 فیصد لمبی ہیں حالانکہ آج زمیں پرموجود شیر کے بچوں کی دمیں ان کی جسامت سے 60فیصد لمبی ہوتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں