The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان میں آب پاشی کے لیے تین ہزار سال قدیم طریقہ ہی کیوں موثر ہے

بلوچستان رقبے اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو پسماندگی، غربت اور بےروزگاری کے اعتبار سے بھی پاکستان میں سرِفہرست ہے۔

بلوچستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے سنگلاخ پہاڑوں اور بے آب و گیاہ میدانوں میں گھرا ہوا ہے۔ یہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ یہاں پانی کی انتہائی قلت ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے کاریزوں کا نظام مغلوں کے دور سے شروع ہوا،اور ایک محتاط اندازے کے مطابق، بلوچستان میں آج بھی چھ ہزار سے زائد کاریز موجود ہیں۔ کاریز ایک زیرزمین آب پاشی کا سسٹم ہے اور یہ تمام سسٹم پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔ مگر اب اس نظام کی تعداد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے جس کی وجہ بارشوں کا کم ہونا اور پانی کا زیر زمین نیچے چلا جانا ہے۔

زیر زمین نہری نظام کی ایک جھلک

بلوچستان میں کاریزوں کا سسٹم انگریز دور حکومت سے پہلے بھی موجود ہیں۔ کاریزوں میں جمع کیے جانے والے پانی کو فلٹر کرنے کا ایک باقاعدہ نظام آج بھی بلوچستان میں مختلف جگہوں پہ موجود ہے۔ بلوچستان میں پانی کی ترسیل کے قدیم طریقہ کار کاریز کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لفظ کاریز فارسی زبان سے نکلا ہے جس کے لفظی معنی آب پاشی ہیں ۔ کاریز کو بلوچستان کا زیر زمین نہری نظام بھی کہا جاسکتا ہے اور یہ طریقہ کار پہاڑی علاقوں میں رائج ہے جہاں پہاڑ کے دامن سے پھوٹنے والے چشموں اور جھرنوں کے پانی کو میلوں دور تک لوگوں کی ضرورت کے لیے پہنچایا جاتا ہے۔

کاریزوں کے نظام کا آغاز دنیا میں شمال مغربی ایران سے ہوا تھا اور پھر یہی کاریز کا نظام بلوچستان کے مختلف  علاقے میں پھیل گیا۔آج بھی بلوچستان میں کاریز کے پانی کی ترسیل اور استعمال کاطریقہ کار  تین ہزار سال پرانا ہے۔ اس سال بلوچستان میں مسلسل بارشوں سے نہ صرف کاریزوں کےپانی میں اضافہ ہوا بلکہ زمین کی خوبصورتی بھی دوبالا ہو گئی۔ اللہ کی رحمت ہمیشہ برستی اچھی لگتی ہیں بلوچستان کے اکثریتی آبادی کا روزگار زراعت اور جنگلات سے وابستہ ہیں۔

بلوچستان  گزشتہ لمبے عرصے سے قحط سالی کے لپیٹ میں تھا تو اس وقت مقامی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئی تھی اکثریت بلوچستان کے مقامی لوگوں کا مزدوری کرنے کےلئے سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کا رخ کرتے تھے مگر اس سال بارشوں نے یہ نقل مکانی بلوچستان سے بند کر دی ہے۔اس سال بلوچستان میں کاریزوں کے پانی کی وجہ سے باغات میں رونق پیدا ہوئی ہے اور فصلیں ہر سال سے اس سال بہتر ہوئی ہیں اور مقامی لوگوں کے کاروبار میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

کاریز کا ایک حسین منظر

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے شمال کی طرف تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع سنگلاخ چٹانوں میں 1894 میں تاج برطانیہ کے دور میں لوگوں کو سستی فراہمی زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے ہنہ جھیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1818 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس کاریزی نظام میں32کروڑ20لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش آج بھی موجود ہے اور گہرائی تقریباً 43فٹ ہے بارشوں اور برف باری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا اوڑک روڈ پر واقع براستہ سرپل جھیل تک پہنچتا ہے۔

کوہ زرغون سے برفباری اور بارش سمیت اوڑک کے قدرتی چشموں کے پانی کو جھیل تک لانے کے لیے تاج برطانیہ دور میں سرپل تعمیر کیا گیا تھا اور وہاں لوہے کے پانچ دروازوں اور پانچ سرنگوں کی تعمیر کی گئی تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جاسکے اور پانی جھیل تک پہنچے۔ ہنہ جھیل کی خوبصورتی اور پر فضا ماحول میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن اس جھیل کے دھانے پہ تعمیر کیا جانے والا
قلعہ نما دروازہ بھی فن تعمیر اور انجنئیرنگ کا نادر نمونہ ہے۔ ایک سی چھوٹی پگڈنڈی آپ کو اس دیو ہیکل دروزے کی چھت پر لے جاتی ہے۔

نہروں کی مرمت کرتے کاشت کار

جھیل کے اطراف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے صرف شمال مغرب کی جانب ایک درہ ہے جہاں سے کسی زمانے میں جھیل کا زاید پانی نکلتا رہتا تھا، برطانوی دور میں اس درے پر ایک عظیم دروازہ تعمیر کیا گیاجس کی چھت پر مکینکل سسٹم نصب تھا دروازے کی تعمیر جھیل کی تہ سے شروع کرکے پہاڑ کی بلندی تک کی گئی ہے دورازے کی پچھلی جانب پانی خشک گزر گاہ کا دور تک نظارہ کیا جاتا ہےاس دروازے کو کھولنے اور بند کرنے کا نظام آج کل ناکارہ ہو چکا ہے اور ہمیشہ بند رہتا ہے۔

اس جگہ کاریز کی تعمیر پر مزدورں کے ساتھ بے انتہا سلوک کیا جاتا تھا تعمیر کے آغاز پر برطانوی انجینئر نے مقای مزدوروں سے ادائیگی کا جو معاہدہ کیا اس کے مطابق جو مزدور دورانِ کام نماز ادا کرے گا، اُسے 50 پیسے کم دیہاڑی دی جائے گی اور جو نماز نہیں پڑھے گا اُسے پوری دیہاڑی ملے گی۔ لیکن جب ادائیگی کی گئی تو صورتحال اس کے بر عکس رہی اور نماز پڑھنے والے مزدور کو
پوری اور بے نمازی مزدور کو 50 پیسے کم اُجرت ادا کی گئی۔ برطانوی حکومت نے بلوچستان میں سب سے بڑا کاریزی کا نظام یہی بنایا تھا پہاڑوں سے نکلنے والا پانی بارشوں، چشموں اور کاریزوں کا جو پانی بہہ کر جھیل کی طرف آتا ہے جس سے لاکھوں لوگ مستفید آج تک ہوتے ہیں۔

کوئٹہ کی ہنہ جھیل

 کاریز زیر زمین آب پاشی کی نقل و حمل کا نظام جو بلوچستان میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس کی بناوٹ اس طرح ہے کہ کسی اونچی جگہ پانی کا چشمہ تلاش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد مناسب فاصلے پر گڑھے کھود کر انہیں سرنگ کے ذریعے ملا دیا جاتا ہے اور اس طرح پانی آہستہ آہستہ بہتا ہوا زمین کی سطح تک آپہنچتا ہے۔ بلوچستان میں کاریز کی لمبائی بعض اوقات میلوں تک جا پہنچتی ہے اور
کئی کئی سال اس کو کھودنے میں لگ جاتے ہیں۔ بعض کنوؤں کی گہرائی ایک سو پچاس فٹ تک ہوتی ہے اس کی لاگت اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی فرد واحد اس کے اخراجات نہیں اٹھا سکتا چنانچہ اہل دیہات یا قبیلے کے افراد مل کر یہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔

بلوچستان میں ہر آنے والی حکومت اپنے انتخابی منشور میں صوبے میں پانی کی کمی اور زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بہتر بنانے کے ساتھ قدیم نظام آبپاشی کاریز کو فعال بنانے کے لیے منصوبے شروع کرنے کا وعدہ تو کرتی آ رہی مگر عملی کام نہ کرتی ہے۔ صرف پرانی کاریزوں کی صفائی اور مرمت ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ چونکہ کاریز کھودنے کا عمل اجتماعی کاوش کا مرہون منت ہے اس
لیے اکثر وہی لوگ شریک ہوتے ہیں جن کی زمینوں سے کاریز گزرتی ہے یا جنہیں اس سے استفادہ کرنا ہوتا ہے۔ بلوچستان کے چونتیس اضلاع میں سے صرف دو میں کاریز اصل صورت میں موجود ہیں جن میں ضلع پنجگور اور ضلع کیچ شامل ہیں۔ باقی پورے بلوچستان میں نظام آبپاشی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔کاریزوں کی خشک ہونے کی ایک دوسری بڑی وجہ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی بھی ہے۔ یوں زراعت، مویشی پروری، باغبانی اور سب سے بڑھ کر انسانی استعمال کے لئے کاریزوں کے پانی کی مقدار میں کمی آتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں آج کل کاریزات کی اہمیت کو اور زیادہ شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے۔

مقامی افراد کے گھریلو استعمال کا پانی

بلوچستان میں کاریز نظام آبپاشی نے انسانوں کے درمیان محبتوں ، ہمدردی اور برابری کے رشتوں کو قائم رکھا ہوا ہے۔کاریزوں کی بحالی سے خشک سالی جیسی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ، باشعور قومیں ایسی مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کرتی ہیں  لیکن بدقسمتی سے سارے بلوچستان میں سو دن کے پانی کا ذخیرہ کا بھی پروگرام موجود نہیں ہے لیکن افسوس کہ پانی کی ترسیل کا کم خرچ اور سہل ترین یہ نظام جو صدیوں تک فعال رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہماری غفلت سے تباہی و بربادی کے دہانے تک آج جا کے پہنچا ہے۔ اس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔


تحریرو تصاویر: ببرک کارمل جمالی

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں