The news is by your side.

Advertisement

جوہری معاہدہ ایرانی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پہلا قدم ہے، انجیلا میرکل

واشنگٹن : جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے ہونے والا معاہدہ ایرانی سرگرمیوں کو روکنے اور جوہری پروگرام کی سخت نگرانی کے لیے پہلا قدم ہے.

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بنایا گیا معاہدہ تہران کو لگام دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔

انجیلا میرکل نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امن و استحکام کی خاطر مزید بہتر اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا تھا کہ ’ہم جوہری معاہدے کو ایران کی رفتار سست کرنے والے جوہری معاہدے کو ابتدائی مرحلہ تصور کرتے ہیں۔ البتہ موجودہ جوہری معاہدہ ایران کی خواہشات کو روکنے کی ضمانت نہیں ہے۔

جرمن چانسلر کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے اور پہلے سے زیادہ نگرانی کرنے کے لیے مذکورہ معاہدے پہلا قدم ہیں اس حوالے سے امریکا اور یورپی ممالک میں اتحاد و اتفاق ہونا چاہیئے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے ایرانی حکومت کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پیھلنے والی بد امنی، انارکی، تشدد اورخون ریزی کی ذمہ دار ایرانی رجیم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ لاکھوں انسانوں کی قاتل حکومت جوہری ہتھیاروں کو حاصل کرنے کے خواب بھی نہ دیکھ سکے، اور ایرانی حکومت دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور خطرناک میزائلوں کی فراہمی کے سلسلے کو بھی ختم کرے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں