site
stats
عالمی خبریں

جرمنی میں برقعے اور نقاب پر پابندی کا فیصلہ

برلن : جرمن وزیر داخلہ تھومس میزیوئر کا کہنا ہے کہ اسکولوں،یونیورسٹیوں اور ڈرائیونگ کے وقت خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی ہونی چاہیے.

تفصیلات کےمطابق جرمنی میں سیکورٹی خدشات کے بعد مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹس اور ان کی اتحادی کرسچن سوشل یونین پارٹی سے تعلق رکھنے والے علاقائی وزراء داخلہ نے عوامی مقامات پر سخت سیکورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے جس میں نگرانی کو بڑھانے کے لیے مزید پولیس اہلکاروں کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے.

ان تجاویز میں موجود دیگر متنازع تجاویز کے ساتھ ساتھ برقعے اور نقاب پر عارضی پابندی کا مطالبہ بھی شامل ہے.

*سوئٹزرلینڈ میں عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی

جرمن وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم مکمل برقعے کو مسترد کرتے ہیں،نہ صرف برقعے کو بلکہ کسی بھی قسم کے پردے کو جس میں صرف آپ کی آنکھیں نظر آتی ہوں.

انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی حکومتی اداروں میں کام کرنا چاہتا ہے وہ برقعے میں کام نہیں کر سکتا.

واضح رہے کہ جرمنی میں برقع پہننے والی خواتین کے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن میزئیک نے کہا ہے کہ خواتین عام طور پر برقع نہیں پہنتیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top