امریکا کی معروف اداکارہ انجلینا جولی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے ملک کو نہیں پہچانتیں۔ اداکارہ نے اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے تنقیدی میڈیا پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں قدامت پسند چارلی کرک کے قتل پر تبصرے کرنے پر میزبان جمی کیمل کا شو معطل کر دیا ہے جس کے بعد امریکہ میں آزادانہ تقریر پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے، انجلینا جولی کا بیان اسی دوران سامنے آیا ہے۔
امریکی اداکارہ کا ملک میں اظہار رائے کی آزادی سے متعلق کہنا تھا کہ میں اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں لیکن میں اس وقت اپنے ملک کو نہیں پہچانتی۔
اداکارہ نے کہا کہ کہیں بھی کوئی بھی اور کسی کی طرف سے بھی ایسی چیز جو تقسیم یا یقیناً ذاتی اظہار اور آزادی کو محدود کرتی ہو تو میرے خیال میں وہ بہت تشویشناک عمل ہے، یہ بہت زیادہ بوجھل وقت ہے، جسے ہم سب ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
اداکارہ جولی کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر اپنے تازہ ترین کردار کی جدوجہد سے اپنائیت اور تعلق محسوس کرتی ہیں۔
اس سے قبل امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے کانز فلم فیسٹیول کے موقع پر شہید خاتون فلسطینی فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسونہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
انجلینا جولی نے کانز فلم فیسٹیول کے دوران منعقدہ ایک خصوصی عشائیہ تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ابھرتے ہوئے فنکاروں میری کولومب اور فن بینیٹ کو ’ٹرافی چوپرڈ‘ ایوارڈ پیش کیا۔
اس موقع پر انجلینا جولی نے اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والی 23 سالہ عالمی شہرت یافتہ فلسطینی فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسونا کا خصوصی ذکر کیا، جس کا دل سوز واقعہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔
"ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی سادہ نہیں ہے ہم جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں بہت سے فنکاروں کو اپنے قصے سنانے کی آزادی اور تحفظ حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک بہت سے فنکار اپنی جانیں کھوچکے ہیں، جیسے کہ فاطمہ حسونا جو غزہ میں شہید ہوئیں، شادن گردود جو سوڈان میں مار دی گئیں اور وکٹوریا آمیلینا جو یوکرین میں جاں بحق ہوئیں ، اور بے شمار ایسے فنکار جو آج ہمارے ساتھ ہونے چاہیے تھے جو ہم میں موجود نہیں۔
انجلینا جولی نے آئندہ 10 سال تک جوان اور خوبصورت نظر آنے کیلیے اہم قدم اٹھا لیا
یاد رہے کہ فاطمہ حسونہ رواں سال 16 اپریل کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے خاندان کے 9 افراد سمیت شہید ہوگئی تھیں۔
فضائی حملے میں شہید ہونے والوں میں فاطمہ حسونہ کے بہن بھائی بھی شامل تھے جن میں سے ان کی ایک بہن حاملہ تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


