سوڈانی اہرام پر فلم بنانے پر مصر ناراض -
The news is by your side.

Advertisement

سوڈانی اہرام پر فلم بنانے پر مصر ناراض

ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر انجیلنا جولی شمالی افریقی ملک سوڈان کی تاریخ اور وہاں موجود اہرام پر فلم میں جلوہ گر ہونے جارہی ہیں۔

تاہم جولی کے اس اقدام سے مصر سخت ناراض ہوگیا ہے جس کا کہنا ہے کہ مصر میں موجود اہرام زیادہ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔

سوڈان اور مصر میں موجود اہرام عرصہ دراز سے دونوں ممالک میں وجہ تنازعہ ہیں جو دیگر کئی سیاسی تنازعوں کی طرح طویل عرصے سے جاری ہیں۔

مصر میں سوڈان میں موجود اہرام کو ’پنیر کے تکون‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سوڈان میں موجود اہرام کی تعداد 230 جبکہ اہرام مصر 118 سے 138 کے درمیان ہیں۔

مصر کے اہرام

تاہم اہرام مصر بلند قامت، عالیشان اور زیادہ خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔

علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوڈان کے اہرام، اہرام مصر سے 2 ہزار سال قدیم ہیں تاہم اس بارے میں ماہرین آثار قدیمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

سوڈان کے اہرام

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سوڈان کی قدیم تاریخ پر یہ فلم قطر کی ایک پروڈکشن کمپنی بنانے جارہی ہے جس میں مرکزی کردار انجلینا جولی اور لیونارڈو ڈی کیپریو ادا کریں گے۔

اس فلم کا مقصد انسانی تاریخ و تمدن کی ترقی میں سوڈانی ثقافت، جسے نیوبین ثقافت بھی کہا جاتا ہے، کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

یہ فلم سوڈان کے سیاحتی شعبے میں اضافے کا باعث بھی بنے گی۔

رپورٹس کے مطابق انجلینا جولی مئی میں سوڈان کے اہرام کا دورہ بھی کریں گی جس کے بعد فلم کی مزید تفصیلات طے کی جائیں گی۔

قطری شہزادی کا دورہ سوڈان

اہرام سے متعلق ان دونوں ممالک کے تنازعے کو اس وقت مزید ہوا ملی جب رواں برس مارچ میں ایک قطری شہزادی شیخا معظہ بنت نصیر نے اقوام متحدہ کی سفیر کی حیثیت سے سوڈان کے اہرام کا دورہ کیا۔

مصر میں اس دورے کو نہایت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور کہا گیا کہ قطر، مصر کے مقابلے میں سوڈان کی سیاحت و معیشت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

قطری شہزادی کے دورے کے بعد ہی اہرام سوڈان کے بارے میں فلم کی افواہیں سامنے آئیں جن کی تاحال تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی۔

فی الحال مصر اور سوڈان کے سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ انجلینا جولی نیوبیا تہذیب کی شہزادی کے روپ میں کیسی دکھائی دیں گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں