The news is by your side.

Advertisement

انجلینا جولی کاعراق میں شامی پناہ گزیروں کے کیمپ کا دورہ

بغداد: معروف اداکارہ اور اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کی خصوصی سفیر انجلینا جولی شامی پناہ گزینوں کے لیے عراق میں واقع دومیز کیمپ پہنچ گئیں، ان کا کہنا ہے صورتحال محض خراب نہیں بلکہ بدترین ہے۔

تفصیلات کےمطابق انجلینا جولی نے گزشتہ روز دومیز کیمپ کا دورہ کیا اور شامی پناہ گزینوں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا شام کے مہاجرین کے مسئلے کے حل میں ناکام ثابت ہورہی ہے جس کا خمیازہ متاثرہ خاندانوں بالخصوص عورتوں اور بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دومیز نامی یہ کیمپ عراق کے نیم خود مختار کرد علاقے میں واقعہ ہے اور یہاں گزشتہ سات سال میں بے گھر ہونے والے 33 ہزار شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں ۔ انجیلینا جولی نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کو ملنے والی فنڈنگ نصف رہ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بد ترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ، جب ہم امداد کے حصول کے کم از کم ٹارگٹ کو بھی حاصل نہیں کرپائیں گے تو مہاجرین کے خاندانوں کو مناسب میڈیکل ٹریٹمنٹ نہیں مل سکے گا۔ خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کو جنسی ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور کئی بچے اسکول جانے سے محروم رہ جائیں گے اور ہم مہاجرین پر سرمایہ کاری کا ایک نادر موقع ضائع کردیں گے۔

اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انسانی حقوق آئندہ روز اعداد و شمار جاری کرے گا جس میں دنیا بھر میں بے گھر لوگوں کی تعداد اور وہ کتنے عرصے سے بے گھر ہیں ظاہر کی جائے گی۔ جولی کا کہنا تھا کہ یہ شرح اب تک کی سب سے بلند شرح ثابت ہوگی ۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ اس موقع پر ہم مسئلے کے حل کے لیے کسی بھی قسم کی سیاسی خواہش کا مکمل فقدان دیکھ رہے ہیں اور اس فقدان کو محض امداد سے پورا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر متوازن لفظ صورتِ حال کی مکمل منظر کشی نہیں کرتا کہ درحقیقت یہاں صورتحال کس قدر اندوہناک ہے۔

یاد رہے کہ شام سنہ 2011 سے خانہ جنگی اور غیر ملکی مداخلت کا شکا ر ہے جس کے سبب انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیے نے جنم لیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیا ہے، بدقسمتی سے بہت کم ممالک نے شامی مہاجرین کو پناہ دینے پررضا مندی ظاہر کی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں