تمام معاشرے شادی کے ادارے کو قبول کرتے ہیں بلکہ فرد کو بامعنی اور پُرسکون زندگی بسر کرنے کا ایک راستہ بتاتے ہیں۔ یہ راستہ انسان کو کسی طرف لے جاتا ہے یہ بعد کی بات ہے۔ کسی زمانے میں پاکستانی معاشرے میں شادی کے ساتھ ایک طرح کا تقدس بھی شامل تھا۔ خاندان کے بڑے بڑی سوچ بچار کے بعد شادی کا فیصلہ کیا کرتے تھے لیکن اب معاملات اور حالات بدل گئے ہیں۔
پاکستان میں اقتصادی بدحالی معاشرتی بدامنی، جرائم کی زیادتی، دولت کی بے پایاں خواہش، زندگی کی کم سے کم ضرویات پورا کرنے کے لئے جسم فروشی سے سرکاری رازوں کی فروخت تک شہری حقوق اور تہذیب کے فقدان نے پاکستان میں معاشرے کی تشکیل نہیں ہونے دی۔ یہاں زندگی کے کسی شعبے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ دوسری طرف غیر ممالک میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد کی ہجرت اور ان کی کمائی ہوئی دولت کے پاکستان میں انتقال نے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس دولت سے ایک نیا متمول طبقہ پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر ناخواندہ ہے لیکن غیر ملکی آمدنی نے انہیں تونگر بنا دیا ہے۔ اس عمل سے جو اقداری نظام سامنے آیا ہے اس میں نمود و نمائش اور شیخی کا عنصر بہت زیادہ ہے اور اس نے پاکستان کی معاشرتی زندگی کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
شادی ایک خاندان بنانے کے لیے کی جاتی ہے جس سے انسان کی جنسی خواہش کی تسکین بھی ہوتی ہے۔ شادی کرنے کی یہ وجوہات نہایت معقول اور عملی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں شادی ایک جدوجہد سے کم نہیں ہے۔ شادی کے دو مروجہ طریقے ہیں۔ والدین کی طرف سے طے شدہ شادی۔ اپنی پسند کی شادی۔ دونوں طرح کی شادی کم کم کامیاب ہوتی ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں اور کرڑوں شادی شدہ جوڑے پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں یہ بات درست دکھائی دیتی ہو لیکن اگر ہم یہاں خانگی زندگی کی تہ میں اتر کر دیکھیں تو اتنے لاینحل تضادات ہیں کہ ان کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اتنی زیادہ ناراضگیاں ہیں جنہیں بعملِ مجبوری برداشت کیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں آج کل شادی کی بنیاد فریب، جھوٹ اور تاجرانہ ذہن پر ہے۔
شادی کی ایک تیسری قسم اپنے نہایت قریبی رشتہ داروں یعنی چچا زاد، ماموں زاد وغیرہ سے شادی۔ عیسائیوں میں فرسٹ کزن سے شادی کی اجازت نہیں ہے جب کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ کزن میرج کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ ان میں پہلی ذات برادری میں شادی کر کے مستقبل کے خدشات سے بچنا ہے۔ اس کے علاوہ متمول طبقہ اپنے اثاثوں کو بچانے کے لیے قریبی رشتہ داروں سے شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان تحفظات کے باوجود قریبی رشتوں میں بھی طلاقیں ہوتی ہیں اور جائیدادوں کے جھگڑے چلتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ بات بھی منظر عام پر آئی ہے کہ سندھ اور بعض دوسرے علاقوں میں بڑے بڑے زمیندار اور تمن دار اپنی جاگیریں بچانے کے لئے لڑکیوں کی شادیاں قرآن مجید سے کر دیتے ہیں۔ یہ تمام رویے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ شادی کے معاملے میں پہلی بات مالی تحفظ ہوتا ہے اور انسانی جذبات کی بات بعد میں آتی ہے۔
پاکستان میں چونکہ سوشل انٹرایکشن بہت کم ہے، اس لئے ہر گھر ایک جزیرہ بن چکا ہے۔ اس لئے رشتوں کی تلاش بھی اک بہت بڑی مشکل بن گئی ہے۔ اب وچولن کا دور گزر گیا ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح یہاں بے شمار میرج بیوروز کھل گئے ہیں لیکن اس شعبے میں بھی بددیانتی، جھوٹ اور فریب کی وجہ سے شاید ہی کسی خوش نصیب کی شادی اس کے حسبِ منشا ہوتی ہے۔ یہ ادارے اتنے مہنگے ہیں کہ عام آدمی کی بساط سے باہر ہیں۔ میرج بیوروز جن کو زیادہ تر عورتیں چلاتی ہیں جو لوگوں کی نفسیاتی مجبوریوں کا پوری طرح استحصال کرتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں شادی کی شروعات بھی عجیب و غریب طریقے سے ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ذات پات کا مسئلہ آتا ہے۔ کم سے کم نوے فیصد خاندانوں کی بنیادی شرط ہوتی ہے کہ شادی ان کی ذات برادری میں ہو۔ جب یہ ممکن نہیں ہوتا تو پھر وہ انتظار کرتے ہیں جب لڑکی کی عمر بڑھنے لگتی ہے تو پھر ہر ذات برادری کو قبول کر لیتے ہیں۔ اگر لڑکے یا لڑکی کی مالی حیثیت بہت اچھی ہے تو ذات برادری کی شرط ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ ابھی یہ مسئلہ طے ہوا نہیں ہوتا کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی مالی حیثیت کا جائزہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگر لڑکی خوبصورت ہے اور خوشحال خاندان سے ہے تو پھر لڑکی والے منہ بولی قیمت مانگتے ہیں کہ لڑکے کو ڈی ایم جی گروپ سے ہونا چاہیے یا بڑا بزنس مین ہونا چاہیے۔
دوسری طرف لڑکے والے لڑکی کے والدین کی مالی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ شادی سے متعلقہ دوسرے معاملات یعنی حق مہر اور جہیز وغیرہ بالکل کاروباری انداز میں طے ہوتے ہیں، فریقین ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تضادی صورتحال ہے۔ ایک طرف شادی ایک خاندان بنانے کے لئے کی جاتی ہے کہ فرد معاشرے میں شامل ہو کر زندگی کو ایک نارمل طریقے سے بسر کر سکے، دوسری طرف ہر دو کا رویہ تاجرانہ ہوتا ہے۔
ازدواجی زندگی میں محبت کے عنصر کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ محبت ازدواجی زندگی کو کامیاب بناتی ہے۔ ایک دوسرے کی پاس داری یا افہام و تفہیم کو محبت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ خوش اخلاقی ہے۔ محبت کی بہت سی قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ محبت مرد اور عورت کے درمیان کسی واضح وجہ کے بغیر کشش ہوتی ہے۔ اس کا منتہٰی اتصال ہوتا ہے۔ فرائیڈ محبت کو جنسی عمل کا پہلا قدم خیال کرتا ہے۔
عام حالات میں شادی خانہ آبادی کے لئے کی جاتی ہے کہ ایک طرف مرد اور عورت کی جذباتی اور جنسی زندگی متوازن رہے اور دوسری طرف وہ اولاد کے ذریعے مستقبل میں سفر کریں۔ ہر فرد کا اپنا مقصدِ حیات ہوتا ہے جس کے لئے وہ جدوجہد کرتا ہے۔ یہ زندگی کے بارے میں عام سا مشاہدہ ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ زندگی الجھنوں کا نام ہے۔ ابھی ابھی میاں اور بیوی میں جس خوش گوار تناست کا ذکر کیا گیا ہے وہ عام طور پر قائم نہیں رہتا خاص طور پر ان معاشروں میں جن کی ایک نمایاں مثال پاکستانی معاشرہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے رقیب کے طور پر رہتے ہیں اور جہاں ایک دوسرے کو زیر کرنے کا عمل پیہم جاری رہتا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت، رواداری اور انسانی جذبات کی پاسداری نامی چیز یہاں ڈھونڈ نے سے نہیں ملتی۔ یہاں کسی شہری کی کوئی عزت نہیں ہے۔ ریاستی مشینری کا اہلکار ہو یا دکاندار عام شہری کو روندنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ اس معاشرتی صورتحال نے سب سے زیادہ خانگی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو مالی اور اقتصادی سطح پر تولتا ہے، ہر کوئی ایک دوسرے کو افادی سطح پر تسلیم کرتا ہے۔ ہمارے جذباتی اور معاشرتی ڈھانچے کے اندر دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ہمارے گھروں میں فتراک آچکا ہے، بیویاں جو کبھی ایثار کی مثال ہوتی تھیں اب پیہم مطالبہ کرنے والی جفا جو ہیں، اب وہ طلاق کی دھمکی وصول کرنے کی بجائے خلع کی دھمکی دیتی ہیں۔ خاندان کے اندر یک جہتی اب خود غرضی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس سارے خلفشار اور تمدنی پیٹرن کو بدلنے کے لئے اور مثبت زندگی بسر کرنے کے لئے ہمیں کسی معجزے کا انتظار ہی کرنا پڑے گا۔ یہ اصلاح نہ کوئی فوجی حکومت کر سکتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کا غوغا کرنے والے۔
شادی تو اس لئے کی جاتی ہے کہ گھر آباد ہو، زندگی میں توازں اور سکون ہو لیکن ان باتوں کا براہ راست تعلق ہماری معاشرتی زندگی سے ہے کیونکہ جو کچھ باہر بیت رہا ہے ہماری جذباتی زندگی اس سے ماورا نہیں ہو سکتی، کیونکہ انسان فرشتہ نہیں ہے۔ اس میں بدی کی طرف راغب ہونے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف انسان ہر معاملے میں سب سے زیادہ اپنے مفاد کو مقدم رکھتا ہے۔ مرد شادی اپنے لئے کرتا ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کی اصلاح یا عورتوں کو آباد کرتا نہیں ہوتا۔ وہ سب کچھ اپنے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ وہ عورت کو زیورات ملبوسات اور حق مہر وغیرہ دے کر گھر لاتا ہے۔ سنکی حضرات کے نزدیک وہ بعض شرائط پر بیوی کو خریدتا ہے۔ آج بھی عربوں میں شادی سے پہلے لڑکی کے باپ کو لڑکی کی قیمت لڑکے کو ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے بعد کے بھی سارے اخراجات لڑکے کو ہی اٹھانے ہوتے ہیں۔ جو مرد اتنے مصارف کے بعد عورت کو گھر لاتا ہے کیا وہ اس کو اپنے مساوی حقوق دینے پر آمادہ ہو جائے گا؟ شاید نہیں کیونکہ مرد عام طور پر عورت کی حاکمیت کے منکر ہوتے ہیں۔ شادی میں عام طور پر مکان آباد ہوتے ہیں اور بیشتر حالتوں میں دل ہے آباد رہتے ہیں۔
(پاکستان کے نامور فکشن رائٹر، نقاد اور مترجم انیس ناگی کی کتاب جنس اور وجود سے ایک اہم اور حساس معاشرتی مسئلے پر چند فکر انگیز پارے)


