کراچی : ملزمہ انمول عرف پنکی کی کپڑے اور ادویات نہ دینے کی شکایت پر جیل سپرنٹنڈنٹ ویمن کو عدالت میں طلب کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں قتل اور منشیات کے متعدد مقدمات میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی جیل انتظامیہ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
ملزمہ نے شکایت کی تھی کہ جیل میں اسے کپڑے اور ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس پر ملزمہ کے وکیل نے جیل انتظامیہ کے خلاف تحریری درخواست دائر کی۔
عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ ویمن کو فوری طور پر طلب کر لیا۔
عدالتی حکم پر ویمن جیل کی سپرنٹنڈنٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔ دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کو جیل میں کپڑے اور ادویات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟
جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں ملزمہ کو کپڑے فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ہم جیل میں ملزمہ کو قابلِ اعتراض کپڑے پہننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ویمن جیل آفیسر نے انکشاف کیا کہ ملزمہ جیل میں ‘ٹی شرٹ’ پہننے کا تقاضا کرتی ہے، جو کہ جیل مینوئل اور قوانین کے مطابق قابلِ اعتراض لباس ہے، ملزمہ اگر نارمل کپڑے منگوا کر پہننا چاہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
دورانِ سماعت جیل حکام نے ملزمہ کی صحت اور ادویات کے حوالے سے پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمہ پنکی کا سول اسپتال سے مستقل علاج چل رہا ہے اور سول اسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کردہ تمام ادویات ملزمہ کو جیل میں باقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہیں۔
ویمن جیل حکام کا تفصیلی موقف اور رپورٹ سامنے آنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے مطمئن ہوتے ہوئے ملزمہ انمول عرف پنکی کی درخواست کو نمٹا دیا۔
واضح رہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے بغدادی، گزری اور دیگر تھانوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور قتل جیسے سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔


