پاکستان کی ‘ڈرگ کوئین’ کہلانے والی انمول عرف پنکی ایک ایسی ہائی پروفائل ملزمہ ہے جس نے کراچی سے اسلام آباد تک منشیات کا ایک وسیع جال پھیلا رکھا تھا۔
کراچی کے پوش علاقوں سے لے کر پنجاب کے بڑے شہروں تک کوکین اور مہنگی منشیات سپلائی کرنے والی انمول عرف پنکی کی گرفتاری نے ملک کے سیکیورٹی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق، انمول پنکی محض ایک منشیات فروش نہیں بلکہ اربوں روپے کے بین الصوبائی ڈرگ نیٹ ورک کی مرکزی کردار بن کر ابھری ہے، جس کا موازنہ اب عالمی ڈرگ لارڈز سے کیا جا رہا ہے۔
انمول پنکی کی مجرمانہ تاریخ
انمول پنکی کی مجرمانہ تاریخ کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا، پہلا مقدمہ جولائی 2021 میں تھانہ گزری میں درج ہوا، جہاں گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ پنکی کے کارندے ہیں۔
گزشتہ پانچ سالوں میں اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج ہوئے، لیکن وہ ہر بار قانون کی گرفت سے بچنے میں کامیاب رہی، اس کا نیٹ ورک کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے تعلیمی اداروں اور اشرافیہ کی محفلوں تک پھیلا ہوا تھا۔
تحقیقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی نے منشیات کی تیاری اور ریفائننگ کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی۔
ڈرگ پروسیسنگ یونٹ کی برآمدگی
گارڈن ویسٹ میں اس کے فلیٹ سے ایک ’منی ڈرگ فیکٹری‘ برآمد ہوئی، جہاں ڈیڑھ کلو سے زائد کوکین اور بھاری مقدار میں ایفیڈرین اور کیٹامائن جیسے کیمیکلز موجود تھے، جو اس کے ’پروڈکشن لیول‘ پر ملوث ہونے کا ثبوت ہیں۔
ذاتی پس منظر
تحقیقات میں یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کا پہلا شوہر ملائیشیا میں مقیم ہے جس نے اسے منشیات کی تیاری کے طریقے سکھائے۔
مزید برآں، یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس نے لاہور کے ایک ڈی ایس پی سے دوسری شادی کی، جس نے مبینہ طور پر منشیات کے پیسے سے جائیدادیں خریدیں تاہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اب ان تمام مالی اور ذاتی روابط کی کڑیاں ملا رہی ہے۔
متنازع عدالتی پیشی
سٹی کورٹ کراچی میں ملزمہ کی پیشی نے اس وقت ہنگامہ کھڑا کر دیا جب اسے بغیر ہتھکڑی کے کسی ‘وی آئی پی’ کی طرح لایا گیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمہ پولیس اہلکاروں کے آگے آگے چل رہی ہے اور موبائل فون پر اپنے وکلاء سے آزادانہ گفتگو کرتی رہی، جس نے پولیس اور نظامِ عدل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Anmol Pinky – All News in Urdu
جے آئی ٹی کی تشکیل
انمول پنکی اس وقت ’سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ‘ اور ’سندھ آرمز ایکٹ‘ کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے۔ حکومت نے اس کے نیٹ ورک کی جڑیں کاٹنے کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دے دی ہے جو اس کے مالیاتی اثاثوں، بین الاقوامی روابط اور ان بااثر افراد کی نشاندہی کر رہی ہے جو برسوں تک اس کی پشت پناہی کرتے رہے۔
بین الصوبائی نیٹ ورک
اس کیس کے بعد پنجاب پولیس اور کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے بھی آپریشن تیز کر دیا ہے اور محض 10 روز میں 73 ڈیلرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، اور انمول پنکی جیسے کردار اس زہر کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
انمول پنکی پاکستان میں منشیات کے اس کالے دھندے کی علامت بن چکی ہے جس نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان ان ’بڑے مگرمچھوں‘ کو پکڑنا ہے جو اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے۔





