کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی سے متعلق مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی 10 مقدمات میں پولیس کو انتہائی مطلوب اور مفرور تھی، پنکی کے خلاف 2021 جولائی میں گزری تھانے کی حدود میں منشیات کیس درج ہوا تھا۔
کیس میں خاتون اور مرد گرفتار ہوئے جنہوں نے انکشاف کیا پنکی کے کہنے پر سپلائی کی۔
کوکین ڈیلر پنکی کے خلاف دوسرا کیس درخشاں تھانے میں 2021 نومبر میں درج ہوا تھا، دوسرے کیس میں بھی ملزم گرفتار ہوا جس نے بنایا پنکی کے کہنے پر منشیات سپلائی کررہا تھا جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے پنکی کو گرفتار کیا جس کی گرفتاری گزشتہ شب ظاہر کی گئی۔
کئی سالوں تک کوکین ڈیلر پنکی کو گرفتار کیوں نہ کیا جاسکا؟ پولیس کارکردگی بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
2021 سے منشیات کے کیسز میں پنکی کا نام سامنے آیا لیکن پولیس خاموش رہی، کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف گزری، درخشاں تھانوں میں 10 مقدمات درج ہیں۔
انمول پنکی کو پولیس نے بغیر ہتھکڑی پروٹوکول میں عدالت میں پیش کیا تھا۔
یہ پڑھیں: پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر پنکی بغیر ہتھکڑی پروٹوکول میں عدالت پیش
ذرائع کا کہنا تھا کہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا، اور اس نے دوران حراست کہا تھا کہ وہ جلد رہا ہو جائیں گی، آج پنکی کو شعبہ تفتیش پولیس کی جانب سے پروٹوکول میں سٹی کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔
کوکین ڈیلر پنکی پیشی کے موقع پر آگے آگے چلتی رہی، جب کہ تفتیشی افسر پیچھے پیچھے چلتا رہا، تفیشی افسر انمول پنکی کو راستہ بھی دکھاتا رہا۔ عدالت پیشی کے موقع پر نہ تو ایس او پیز کے مطابق پولیس سیکیورٹی موجود تھی نہ اسے ہتھکڑی لگائی گئی، پنکی نے اپنے وکیل سے موبائل فون لے کر بات بھی کی، اور کورٹ میں موجود افراد سے ہنسی مذاق بھی کی۔
پولیس نے عدالت سے پنکی کا 14 روز کا ریمانڈ طلب کیا گیا تھا تاہم وہ ریمانڈ کے حصول میں ناکام ہو گئی ہے اور عدالت نے انمول پنکی کی ابتدائی کسٹڈی دی ہے۔ انمول پنکی پر پولیس نے دو مقدمات درج کیے ہیں۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


