ہفتہ, جون 6, 2026
اشتہار

کوکین کوئین انمول پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : کوکین کوئین انمول عرف پنکی کا 22 مئی پر جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کےحوالے کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کو پیش کیا گیا ، تھانہ بغدادی پولیس نے ملزمہ کا قتل کیس میں مزید ریمانڈ مانگ لیا گیا۔

دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کے سامنے ملزمہ کے نیٹ ورک کے حوالے سے ہلاکت خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمہ کے ساتھ نائیجیریا کے جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں ، ملزمہ کے موبائل فون سے 800 لوگوں پر مشتمل ایک فہرست ملی ہے، اور اس کا نیٹ ورک پنجاب اور لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے منشیات کا اپنا ایک ‘برانڈ’ بنایا ہوا ہے۔ پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھیں۔ حال ہی میں ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات بھی برآمد کی گئی ہے اور مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

افسر نے مزید بتایا کہ ملزمہ اصل میں لاہور کی ہے لیکن اس کے شناختی کارڈ پر اب بھی کراچی کا پتہ درج ہے۔ اس کا پرانا ڈیٹا اس کے سابقہ شوہر نے بلاک کر رکھا ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور 15 سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے جبکہ قانون کی گرفت سے بچنے اور سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملزمہ نے پنجاب میں ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی، ملزمہ نے مجموعی طور پر 3 شادیاں کیں لیکن حیرت انگیز طور پر آج تک نادرا کے ریکارڈ میں انہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔

عدالت نے آئی او سے پوچھا "آپ نے قتل کیس میں کیا تفتیش کی؟ کیا مرنے والے کی شناخت ہوئی؟ تو تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ مقتول کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم جب لاش ملی تو اس کی تلاشی کے دوران ملزمہ کے برانڈ کی منشیات کی ڈبی برآمد ہوئی تھی، جس پر مقتول کا لنک ملزمہ سے جڑتا ہے۔

جب عدالت نے ملزمہ سے پوچھا کہ: "کیا پولیس نے آپ کو کہا تھا کہ جب چھاپہ ماریں تو مسکرا کر دروازہ کھولنا؟ تو ملزمہ نے روتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ "یہ لوگ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں۔ مجھے 20 سے 22 دن پہلے لاہور سے گرفتار کیا گیا اور ایک گھر میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا گیا۔

ملزمہ کا کہنا تھا کہ جس دن میری گرفتاری ظاہر کی گئی، اس دن میری پٹی ہٹائی گئی اور کہا گیا کہ اب تم نے دروازہ کھولنا ہے، پولیس نے مجھ پر دباؤ ڈالا کہ جن لوگوں کے نام وہ خود بتا رہے ہیں، میں وہ نام لوں۔ مجھے دھمکی دی گئی کہ اگر نام نہیں لیے تو تمہاری فیملی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ مجھ پر روز ایک نیا جھوٹا پرچہ لا کر ڈال دیا جاتا ہے۔”

ملزمہ کے وکیل نے الزام لگایا کہ پولیس نے ریمانڈ ختم ہونے کے باوجود ملزمہ کو پیش نہیں کیا اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے ایک دن غیر قانونی حراست میں رکھا۔

وکیل نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ قتل کا واقعہ 7 اپریل کو ہوا جبکہ ایف آئی آر 9 اپریل کو کٹی، اس وقت ملزمہ لاہور میں موجود تھی۔ پولیس جس منشیات کی ڈبی کا ذکر کر رہی ہے، ایسی ڈبیاں بنانا کوئی مشکل کام نہیں، سب مقدمات جھوٹے ہیں۔

جج نے وکیل کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ: "ملزمہ کا 3 دن کا ریمانڈ تھا اور اسے آج 16 مئی کو ہی پیش کرنا تھا، پولیس نے وقت پر پیش کیا ہے، اس میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کہاں سے ہوئی؟”

عدالت کے حکم پر کیس سے جڑے مزید دو ملزمان ذیشان اور سہیل کو بھی پیش کیا گیا، عدالت کے استفسار پر ملزمان نے بتایا کہ وہ دونوں سگے بھائی ہیں اور ایزی پیسہ شاپ چلاتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کی دکان سے ملزمہ کے نیٹ ورک کے لیے کروڑوں روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں، جبکہ ان کا ایک اور ساتھی ملزم ‘قمر’ ابھی تک مفرور ہے۔

تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ تفتیش کو آگے بڑھانے اور مفرور ملزم قمر کی گرفتاری کے لیے تمام ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، جبکہ وکیلِ صفائی نے ملزمہ کو فوری طور پر جیل بھیجنے کی درخواست کی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر ملزمہ انمول عرف پنکی اور دونوں بھائیوں کے ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بعد ازاں سٹی کورٹ نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کےحوالے کردیا گیا، ملزمہ پنکی جسمانی ریمانڈ پر ایس آئی یو پولیس کے حوالے کی گئی، فیصلہ ضلع وسطی کی عدالت نے سنایا تاہم 12مقدمات میں تاحال فیصلہ محفوظ ہے۔

+ posts

تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

اہم ترین

فاروق سمیع
فاروق سمیع
تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

مزید خبریں