کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کوکین ڈیلر انمول پنکی نے پولیس سے بچنے کے لیے فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کے یونیفارم کے ذریعے کوکین سپلائی کروانے کا انکشاف کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کوکین کوئین انمول پنکی کی گرفتاری کے بعد سے انکشافات سامنے آئے ہیں اب ملزمہ نے دوران تفتیش مزید راز بھی اُگل دیے ہیں۔
ملزمہ نے بتایا ہے کہ پولیس سے بچنے کے لیے معروف فوڈ ڈیلیوری برانڈ کی جعلی یونیفارم پہن کر کوکین سپلائی کروائی جاتی تھی اور منشیات فوڈ ڈیلیوری برانڈ میں پیک کی جاتی تھی۔
یہ پڑھیں: کوکین ڈیلر انمول پنکی نے بیمار ہونے کا دعویٰ کر دیا
انمول پنکی نے انکشاف کیا کہ رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد کراچی میں خاتون کو ڈیلیوری کے لیے رکھا، لاہور سے کراچی تک ہر ٹرپ پر خاتون کو 50 ہزار روپے دیے جاتے تھے، دو سال تک خاتون کے ذریعے بائیک رائیڈرز سے ڈیلیوری کروائی۔
ملزمہ نے کہا کہ خاتون سے ڈیلیوری مہنگی پڑنے لگی تو بھائی ناصر کے ساتھ خود کراچی شفٹ ہوگئی، تمام رائیڈرز کو معروف ڈیلیوری برانڈز کی جعلی یونیفارم تیار کرکے دیں، عاقب، حمزہ اور اعزاز رائیڈرز کے طور پر اب بھی کام کررہے ہیں جبکہ 2 رائیڈرز عباد اور عباس گرفتار ہوئے اب بھی جیل میں ہیں۔
کوکین کوئین نے کہا کہ کراچی کا تمام دھندا سابق شوہر نے میرے حوالے کردیا تھا جبکہ منشیات سپلائی پنڈی، اسلام آباد، لاہور اور کراچی تک پھیلی تھی، رانا ناصر کی منشیات کراچی میں ڈی ایچ اے کے رہائشی اقبال بالا کو دیتی تھی۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


