The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کا آغاز: بارہویں جماعت کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا پرچہ جعلی نکلا

کراچی : انٹرمیڈیٹ امتحانات کے آغاز میں بارہویں جماعت کا آج پہلا پرچہ پینتالیس منٹ پہلے ہی سوشل میڈیا کی زینت بن گیا، تاہم سوشل میڈیا پر جاری ہونے والا پرچہ جعلی نکلا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں انٹر کے سالانہ امتحانات کا آغاز آج باٹنی سال دوئم کے پرچے سے ہوا، چئیرمین انٹر بورڈ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے گو ریمنٹ عبد اللہ برائے خواتین سمیت مختلف امتحانی مراکزکا دورہ کیا اور امتحانات کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اس موقع پر سوشل میڈیا پر جعلی پرچے کے سوال پر چیرمین انٹر بورڈ نے کہا کہ جعلی پرچے سوشل میڈیا کی زینت بنا اس کو پرچہ آوٹ نہیں کہتے، انٹر بورڈ وہ واحد بورڈ ہے ، جس کی ماضی میں پرچہ آوٹ ہونے کی کوئی روایت نہیں ہے اور آج بھی پرچہ آوٹ نہیں ہوا۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیرمین نے کہا اصل پرچے اور جعلی کے پرچے سوالات مکمل طور پر الگ ہیں ، اس لئے طلباء سوشل میڈیا سے دور رہیں، وہاں صرف جعلی پرچے اور افواہیں گردش کرتی ہیں۔

ڈاکٹر سعید الدین کا کہنا تھا کہ انٹر بورڈ کے فول پروف نظام میں پرچہ آؤٹ ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس صورت حال سے ایف آئی اے سائبر کرائم کو آگاہ کیا جائے۔

چئرمین انٹربورڈ نے کہا پہلی بار او ایم آر سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس سے نتائج مرتب کرنے میں آسانی ہو گی جبکہ بورڈ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک حکام نے امتحانی مراکز پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے یقین دہانی کرائی ہے۔

چیئرمین انٹربورڈ سعید الدین کا کہنا ہے کہ امتحانات میں ایک لاکھ 90 ہزارطلبا و طالبات شریک ہوں گے اور 6 جولائی تک انٹر کے امتحانات جاری رہیں گے۔

سعید الدین نے بتایا کہ صبح کی شفٹ میں صبح 9 بجےسے 12 تک سائنس پری میڈیکل،پری انجینئرنگ،سائنس جنرل، ہوم اکنامکس کے امتحانات ہوں گے، اس شفٹ میں ایک لاکھ 8 ہزار طلبا و طالبات امتحانات دیں گے۔

چیئرمین انٹربورڈ کا کہنا تھا کہ شام کی شفٹ میں دوپہر2سےشام5بجے تک کامرس ریگولر،پرائیویٹ کے امتحانات ہونگے، شام کی شفٹ میں 82 ہزار طلبا و طالبات شرکت کریں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ صبح اور شام کی شفٹوں کیلئے 211 امتحانی مراکز قائم کیےہیں ، جس میں 64 امتحانی مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب نواب شاہ میں گیارہویں جماعت کاانگلش کا پرچہ واٹس ایپ گروپس پرگردش کرتارہا اور شہید بےنظیرآباد تعلیمی بورڈ انتظامیہ نقل روکنے میں ناکام نظر آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں