The news is by your side.

کم عمری میں پسند کی شادی کا ایک اور کیس سامنے آگیا

کراچی : پسند کی شادی کرنے والی لڑکی نے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کم عمری کی شادی کا ایک اور کیس سامنے آگیا، لڑکی کی پسند کی شادی کو باپ نے اغوا قرار دے دیا۔

لڑکی عائشہ صدیقہ نے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا، جس پر عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے کہا کہ مسمات عائشہ صدیقہ اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور شریعت کے مطابق لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ رہے سکتی ہے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ کم عمری کے متعلق لڑکی کے والد چائلڈ ریسٹرین میرج ایکٹ 2013 کے تحت متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔

سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ مسمات عائشہ اگر اپنے والدین کے ساتھ ملنا چاہیں تو شوہر کوئی مداخلت نہیں کرے گا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خیر پور فریقین کو بلوائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں ،درخواست گزار کی تعلیم جاری رہے۔

عدالت نے احکامات کی نقول ڈسٹرکٹ جج خیر پور کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عائشہ صدیقہ کی جانب سے دائر درخواست نمٹادی۔

والد نے عدالت میں بیان دیا کہ میری بیٹی کی عمر پندرہ سال کے قریب ہے، لڑکی عالمہ کا کورس کررہی تھی، میری بیٹی کو اغوا کیا گیا۔

لڑکی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جس سے شادی کی ہے وہ کہاں ہے؟ تو کمرہ عدالت میں موجود شوہر سامنے آگیا ، وکیل نے بتایا کہ میٹرک کا طالب ہے کسی قسم کا روزگار بھی نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں