The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں نگلیریا وائرس سے 8 سالہ بچے کی موت

کراچی: شہر قائد میں نگلیریا وائرس سے 8 سالہ بچے کی موت ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی میں نگلیریا وائرس سے ایک اور موت کی تصدیق ہوئی، شہر قائد کے علاقے شادمان ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے 8 سالہ ذوہیب کا 3 روز قبل انتقال ہوا۔

ڈاکٹرز کے مطابق متوفی کو شدید بخارکی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ایک روز زیر علاج رہا اور پھر جمعے کو انتقال کرگیا۔

میڈیکل رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ زوہیب نگلیریا سے متاثر ہوا اور اس کی موت بھی اسی وجہ سے ہوئی۔

حالیہ موت کے بعد کراچی میں نگلیریا سے مرنے والے افراد کی تعداد چار تک پہنچ گئی۔

نگلیریا وائرس کیا ہے؟

نگلیریا ایک ایسا امیبا ہے، جو اگر ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے تو دماغ کو پوری طرح چاٹ جاتا ہے، جس سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے، یہ عموماً گرم پانی میں تیزی سے پرورش پاتا ہے۔

یہ وائرس عموماً سوئمنگ پولز، تالاب سمیت ٹینکوں میں موجود ایسے پانی میں پیدا ہوتا ہے، جس میں کلورین کی مقدار کم ہوتی ہے، شدید گرمی بھی نگلیریا کی افزائش کا سبب بنتی ہے۔

طبی ماہرین ’نگلیریا‘ کو خاموش قاتل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس نے اب تک دنیا میں ہزاروں افراد کو ابدی نیند سلادیا ہے، اس موذی بیماری کا ماہرین ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں کرسکے۔

علامات

یہ ایک خطرناک وائرس ہے، جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوجاتا ہے اور دماغ متاثر کرنا شروع کردیتا ہے، اس کی علاماتیں سات دن میں ظاہر ہوتی ہے، جو گردن توڑ بخار سے ملتی جلتی ہیں، سرمیں تیز درد ہونا، الٹیاں یا متلی آنا ، گردن اکڑ جانا اور جسم میں جھٹکے لگنا اس کی واضح علامات ہیں۔

بچاؤ کیسے ممکن

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گھروں میں موجود ٹینکوں اور پانی کی ٹنکیوں کو سال میں کم سے کم دو بار صاف کیا جائے، کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے، پینے اور وضو کیلئے پانی کو 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابالنا نگلیریا کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس سے بچاو کا واحد حل یہ ہے کہ طے شدہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پانی میں کلورین کا استعمال کیا جائے تو نگلیریا وائرس کو پیدا ہو نے سے روکا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں