The news is by your side.

Advertisement

ڈینگی وائرس: 9 ماہ پر مشتمل ایک اور سرکاری رپورٹ تیار، کیسز کی تعداد 11 ہزار سے بڑھ گئی

اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 150 سے زاید افراد میں ڈینگی کی تصدیق

اسلام آباد: ذرایع کا کہنا ہے کہ وزارت قومی صحت کے انسداد ڈینگی روم نے کیسز پر رپورٹ تیار کر لی ہے، یہ رپورٹ یکم جنوری تا 15 ستمبر کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارۂ صحت کے بعد وزارت صحت نے بھی ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ اور شکار افراد کی تعداد پر نو ماہ پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کر لی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے مجموعی مصدقہ ڈینگی کیسز کی تعداد 11214 ہو گئی ہے۔

راولپنڈی میں ڈینگی ایمرجنسی نافذ

یہ رپورٹ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کو پیش کی جائے گی، رپورٹ کے مطابق رواں سال پنجاب میں ڈینگی کے 2680 مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں، سندھ میں 2397، خیبر پختون خوا میں 2267، بلوچستان میں 1773، وفاقی دارالحکومت میں 1901، جب کہ آزاد کشمیر میں ڈینگی کے 148 مصدقہ کیس سامنے آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر شہروں میں رواں سال ڈینگی کے 48 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے، گلگت بلتستان میں تاحال ڈینگی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

ذرایع وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بلوچستان کے گوادر، کیچ، پنجاب کے 2 اضلاع لاہور، راولپنڈی، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کے پی میں پشاور، سوات، مانسہرہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  رواں برس مصدقہ ڈینگی کیسز کی تعداد 7471 ہو گئی: رپورٹ ادارہ قومی صحت

ادھر اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے انسدادی اقدامات کے باوجود ڈینگی وائرس کے حملے بدستور جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 150 سے زاید افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہو چکی ہے، ترجمان پمز کے مطابق 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے 306 مشتبہ مریض اسپتال لائے گئے، 92 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔

پمز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں اس وقت ڈینگی کے 50 مریض زیر علاج ہیں، دو ماہ میں ڈینگی کے شبے میں 5 ہزار سے زاید افراد کو اسپتال لایا گیا، جب کہ دو ماہ میں 2850 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔

ذرایع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پولی کلینک میں 44 افراد میں ڈینگی کی تصدیق کی گئی، اس دوران ڈینگی کے 11 نئے مریض پولی کلینک میں داخل کیے گئے، یہاں زیرعلاج مریضوں کی تعداد 79 ہو گئی ہے، دو ماہ میں پولی کلینک میں 545 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔ فیڈرل جنرل چک شہزاد میں بھی 17 مریض زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈینگی پر قابو پانے کے لیے عثمان بزدار کی افسران کو آخری وارننگ

مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے صورت حال کے پیش نظر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کل ظفر مرزا نے تسلیم کیا ڈینگی کیسز کی تعداد 10 ہزار ہو چکی ہے، ڈینگی بڑھنے پر نا اہلی و ناکامی حکومت پنجاب کی ہے، عثمان بزدار اور وزیر صحت اس کے ذمہ دار ہیں، پنجاب حکومت نے ڈینگی کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔

آج لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب انسداد ڈینگی سے متعلق اجلاس میں متعلقہ افسران پر شدید برہم ہوئے، اور انھیں آخری تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور اور راولپنڈی کو ڈینگی کے باعث تبدیل کیا، اب جو کوتاہی کرے گا اس کی باری ہوگی۔

دوسری طرف آج پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب میں انسداد ڈینگی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد راولپنڈی میں ڈینگی ایمرجنسی نافذ کی گئی اور متعلقہ ذمہ داران کو انتظامات فوری مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

سیکریٹری ہیلتھ کیئر نے راولپنڈی میں خالی نشستوں پر افسران کی فوری تعیناتی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پہلی ترجیح میں راولپنڈی، دوسرے مرحلے میں دیگر اضلاع میں عملہ مکمل کیا جائے۔

انھوں نے ہدایت کی کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے انتظامات اور اسپتالوں کا عملہ فوری مکمل کیا جائے، اضافی وارڈز بنانے کے لیے بھی درکار عملہ فوری مہیا کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں