The news is by your side.

Advertisement

مشعال کو قتل کرنے کے بعد قاتلوں کی ایک دوسرے کو مبارکباد

مردان: عبد الولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشعال کو قتل کرنے کے بعد قاتلوں کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی جس میں قاتل ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور قاتل کا نام راز رکھنے کے لیے حلف اٹھاتے نظر آرہے ہیں۔

یہ ویڈیو مبینہ طور پر مشعال کے قتل کے کچھ دیر بعد کی ہے۔

ویڈیو میں توہین مذہب کا الزام لگا کر مشعال کی جان لینے والے قتل کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ ملزمان نے با آواز بلند حلف بھی اٹھایا کہ گولی مارنے والے کا نام کوئی نہیں لے گا۔

مزید پڑھیں: مشعال خان قتل کیس کو پاکستان میں مثال بنائیں گے، عمران خان

ویڈیو میں حلف لینے میں والوں میں تحریک انصاف کے کونسلر عارف کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی باآسانی شناخت میں مزید مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشعال خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مشعال پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا تاہم گزشتہ روز انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بتایا کہ مشعال کے خلاف توہین رسالت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کا الزام عائد کرنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، امام کعبہ

بعد ازاں گزشتہ روز کیس کے مرکزی ملزم وجاہت نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی پر ڈال دی تھی۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے جامعہ کی انتظامیہ نے کہا تھا۔

ملزم کے مطابق انتظامیہ نے اسے کہا کہ مشعال اور ساتھیوں نے توہین رسالت کی ہے جس پر ملزم نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر طالب علموں کے سامنے مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی، تقریر میں کہا کہ ہم نے مشعال، عبداللہ اور زبیر کو توہین کرتے سنا ہے۔

آج صبح قومی اسمبلی میں بھی مشعال خان کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں