site
stats
پاکستان

پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے، اے این پی

اسلام آباد : عوامی نیشنل پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ پختونوں کے شناختی کارڈز بلاک کرنے پر اور نئے کارڈ جاری نہ کرنے پر احتجاجآ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگالیے جہاں اے این پی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نادرا کی جانب سے ہزاروں پختونوں کے شناختی کارڈز بلاک کردیے گئے ہیں اور انہیں غیر مقامی قرار دے کر نئے شناختی کارڈز جاری کرنے سے منع کردیا ہے ۔

سابق وفاقی وزیر اور اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ پختونوں کے ساتھ روا رکھے جانا والا امتیازی سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور ہم کسی صورت پختونوں کو دیوار سے لگانے کے عمل کو برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کہ جعلی شناختی کارڈ ضرور منسوخ ہونے چاہیں لیکن اس کی آڑ میں برسوں سے مقیم پختونوں کوافغانی کہہ کر شناختی کارڈ جاری نہ کرنا متعصبانہ عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو وارننگ دی کہ اپنا قبلہ درست کرلے اور پختونوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے جیسے اقدامات سے گریز کیا جائے ورنہ احتجاج کا دائرہ کار گلی محلوں تک پہنچادیا جائے گا

دریں اثناء قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ بھی اے این پی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پہنچ گئے اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہا کہ شناختی کارڈ کا حصول اس ملک کے ہرشہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے جس سے پختونوں کو محروم نہیں رکھا جاسکتا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اے این پی نے اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے پُر امن راستہ چنا جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور میں حکومت سے درکواست کروں گا کہ اے این پی کے تحفظات کو دور کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top