site
stats
پاکستان

انصارالشریعہ گروپ کے تمام لڑکے این ای ڈی، داؤد اور کراچی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں،انکشافات

کراچی : انصارالشریعہ کے گرفتارسربراہ ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی نے تفتیش میں اہم رازاگل دئیے، ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردی کی تربیت افغانستان سے لی، گروپ میں شامل لڑکے کراچی یونیورسٹی،این ای ڈی اور داؤد یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انصارالشریعہ کے گرفتار سربراہ ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کئے، دہشت گرد ملزم نے بتایا کہ انصارالشریعہ تنظیم کا آغاز دو ہزار پندرہ میں ہوا، جس کے بعد القاعدہ سے الحاق اور سپورٹ کے لئے عبداللہ بلوچ سے رابطہ کیا لیکن انھیں اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کو کہا گیا۔

انصارالشریعہ کے گرفتار سربراہ نے بتایا عبداللہ بلوچ کراچی میں ہی ہوتا تھا،دو ہزار بارہ میں اس کے ٹھکانے پر چھاپا پڑا اور اسلحہ و گولا بارود ملا، جس کے بعد وہ افغانستان فرار ہوگیا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی کی تربیت افغانستان سے لی،  کراچی میں اپنے آپ کو منوانے کے لئے پولیس کلنگ کی، گروپ میں شامل دس بارہ لڑکے کراچی یونیورسٹی،این ای ڈی اور داؤد یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔

ملزم نے بتایا کہ دہشت گردی کی تربیت افغانستان کے علاقے شراوک سے لی، ہلاک ملزم حسان عرف ولید کی عمر ستائیس سال تھی اور لزارہجری کارہائشی تھا، ملزم حسان افغانستان سے تربیت لیکر آیا تھا اورالیکٹرونک انجینئر تھا ، حسان این ای ڈی سے پی ایچ ڈی کررہا تھا،جبکہ داؤد یونیورسٹی میں الیکٹرونک سائنس کا ٹیچر بھی تھا۔

ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی نے انکشاف کیا کہ ملزم حسان کو پینتالیس ہزارتنخواہ ملتی تھی آدھی تنخواہ گھراور آدھی تنظیم کو دیتا تھا،اس کی والدہ ڈاکٹر اور والد پروفیسر ہیں۔

ملزمان نے گلبرگ پولیس اورعزیز بھٹی چوکی پر منصوبہ بندی کرنے کا بھی انکشاف کیا۔

انصار الشریعہ کا سرغنہ عبد اللہ ہاشمی گرفتار

یاد رہے کہ کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے انصار الشریعہ کے سرغنہ عبد اللہ ہاشمی کو گلزار ہجری سے گرفتار کیا تھا ، ملزم ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی کی عمر اٹھائیس برس ہےجو انصارالشریعہ کاترجمان بھی ہے۔

عبداللہ ہاشمی نے جامعہ کراچی سے اپلائیڈ فزکس میں ایم ایس سی کیا، عبداللہ آئی ٹی ماہر اور این ای ڈی کمپیوٹر سیکشن میں ملازمت کرتا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top