اسلام آباد : انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں وزیراعظم شہباز شریف عالمی قیادت کے مرکزِ نگاہ رہے ، رہنماوں نے امن کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی سراہا۔
تفصیلات کے مطابق ترکیہ میں منعقدہ "انطالیہ ڈپلومیسی فورم” میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
فورم کے دوران نہ صرف ترک صدر نے ان سے خصوصی گرمجوشی کا اظہار کیا بلکہ عالمی طاقتوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی سراہا۔
تقریب کے دوران ایک دلچسپ اور غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ترک صدر رجب طیب اردوان اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد اسٹیج سے اترے تو پروٹوکول کے برعکس سیدھا وزیراعظم شہباز شریف کی نشست کی طرف بڑھے۔
ترک صدر نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ شہباز شریف سے انتہائی گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خیریت دریافت کی۔
ترک صدر کی پیروی کرتے ہوئے فورم میں شریک دیگر ممالک کے سربراہان بھی وزیراعظم شہباز شریف کے گرد جمع ہو گئے۔
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا جبکہ آذری صدر ابراہیم علیوف اور شامی صدر احمد الشرع نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔
قازقستان کے صدر سمیت کئی دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی وزیراعظم سے مصافحہ کیا اور مختلف امور پر بات چیت کی۔
ایک موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر اردوان اور آذری صدر ابراہیم علیوف ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے خوشگوار موڈ میں گفتگو کرتے دکھائی دیے، جو تینوں ممالک کے گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
انطالیہ میں ہی سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم چار فریقی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر غور کیا گیا جبکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔
تمام شرکاء نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا اور اسے عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


